صفحات

ہفتہ، 13 جولائی، 2013

جانوروں پر ظلم

مجلس(۱۱)

جانوروں پر ظلم
جانوروں کے مار ڈالنے کے بارے میںگفتگو شروع ہوئی۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے زبان مبارک سے فرمایا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہُ رسول اللہ  ﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ جو شخص چالیس گائے ذبح کرتا ہے اس کے ذمے ایک خون کبیرہ لکھا جاتا ہے اور جو جانور نفس کی خواہش کے واسطے ذبح کیا جاتا ہے وہ ایسا ہے گویا کہ اس نے خانہ کعبہ کے ویران کرنے میں مدد کی ہے مگر اس جگہ کہ جہاں بسمل کرنا جائز ہے پھر فرمایا کہ میں نے خواجہ حاجی رحمتہ اللہ علیہ کی زبانی سنا ہے کہ اے درویش! خواجہ عبداللہ مبارک فرمایا کرتے تھے کہ میری ۷۰ سال کی عمر ہے میں نے اس میں کبھی جانور ذبح نہیں کیا۔

پھر فرمایا کہ رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص کسی جانور کو آگ میں پھینکتا ہے یا بے رحمی سے مار ڈالتا ہے اس کا کفارہ یہ ہے کہ غلام آزاد کرے یاساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے یا متواتر دو مہینے لگاتا ر روزے رکھے ۔رسول اللہ  ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ کسی جانور کو آگ میں نہ ڈالا جائے گا مگر دنیا میں اور آخرت میں عذاب ہوگا اور جو شخص جانور آگ میں پھینکتا ہے گویا وہ اپنی ماں سے زنا کرتا ہے۔ نَعُوْذُ بِا للہِ مِنْھَا۔

جو نہی کہ خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ان فوائدکو ختم کیا خلقت اور دعا گو واپس چلے آئے۔ 

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلیٰ ذٰلِکَ۔



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں