صفحات

ہفتہ، 13 جولائی، 2013

مومن سے گالی گلوچ فرعون کی مدد کرنا ہے

مجلس(۸)
مومن سے گالی گلوچ فرعون کی مدد کرنا ہے

گالی دینے کا ذکر ہوا توآپ رحمتہ اللہ علیہ نے زبان مبارک سے فرمایا کہ جو شخص مومن کو گالی دیتا ہے وہ گویا اپنی ماں اور لڑکی کے ساتھ زنا کرتا ہے اور ایسے ہے کہ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی لڑائی میں فرعون کی مدد کرنا۔

پھر فرمایا کہ جو شخص مومن کو گالی دیتا ہے اس کی دعا چند روز تک قبول نہیں ہوتی اور اگر بغیر توبہ کئے مر جائے تو گنہگار ٹھرتا ہے۔

سرخ دسترخوان پر کھانے کی برکات

اور کھانے کا ذکر آیا۔جب کھانا آیا تو آپ نے فرمایا کہ کھانا دسترخوان میں لائو تاکہ اس کے اوپر رکھ کر کھائیں گو رسول خدا ﷺ نے دسترخوان پر طعام نہیں کھایا لیکن دسترخوان پر رکھ کر کھانے کو منع بھی نہیں فرمایا۔ اگر کھالیں تو جائز ہے لیکن آئو! سب مل کر کھا ئیں اور ایسا کریں جیسا کہ میرے بھائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کیا ہے۔

پھر فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دسترخوان کا رنگ سرخ تھاجو آسمان سے اترتا تھا اور اس میں سات روٹیاں اور پانچ سیر نمک ہوتا تھا پس جو شخص دسترخوان پر روٹی نمک کے ساتھ کھائے ہر لقمہ کے ساتھ سو نیکی لکھتے ہیں اور سو درجے بہشت میں زیادہ کرتے ہیں اور بہشت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہمراہ ہوتا ہے اور جو شخص سرخ دسترخوان پر نمک کے ساتھ روٹی کھاتا ہے اسے بہشت میں ایک شہر ملتا ہے اور جب روٹی کھانے سے پہلے فارغ ہوتا ہے خداوند تعالیٰ اس کے تمام گناہ بخش دیتا ہے۔

پھر فرمایا کہ خواجہ مودود حسن رحمتہ اللہ علیہ کی زبانی سنا ہے کہ جو شخص دسترخوان پر روٹی کھاتا ہے خداوند تعالیٰ اسے نظر رحمت سے دیکھتا ہے۔

پھر فرمایا کہ شمس العارفین کو یہ نام رسول اللہ ﷺ کے روضہ مبارک سے عطا ہوا۔یہ اس طرح پر ہوا کہ جس روز وہ رسول اللہ ﷺ کے روضہ مبارک پر پہنچا اور سلام کیا تو آواز آئی ( عَلَیْکَ السَّلامُ یَا شَمْسَ الْعَارِ فِیْنَ) اے شمس العارفین تجھ پر سلام۔ پھر فرمایا کہ یہی معاملہ امام اعظم رضی اللہ عنہ سے پیش آیا تھا جب آپ ابتدائی حالت میں رسول اللہ ﷺ کے روضہ مبارک پر پہنچے اور کہا:

اے مرسلوں کے سردار ! تجھ پر سلام ہو تو آواز آئی ۔ علیک السلام یا امام المسلمین ! اے مسلمانوں کے امام! تجھ پر سلام ہو۔


اہلِ محبت و ادب کا انعام

پھر فرمایا کہ خواجہ با یزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ کو سلطان العارفین کا خطاب آسمان سے ملا تھا چنانچہ ایک دن آدھی رات کے وقت اٹھ کر مکان کی چھت پر آکر خلقت کو سویا دیکھا اور کسی شخص کو جاگتے ہوئے نہ پایاتو خواجہ صاحب کے دل میں خیال گزرا کہ افسوس ! ایسی با عظمت درگاہ میں بیدار اور مشغول کیوں نہیں ہیں چاہا کہ خداوند تعالیٰ سے ساری خلقت کے جاگنے اور مشغول ہونے کی دعا کریں پھر دل میں خیال آیا کہ یہ شفاعت کا مقام سرور کائنات ﷺ کا ہے مجھے کیا مجال ہے کہ ایسی درخواست کروں۔

جونہی کہ دل میں یہ خیال پیدا ہوا غیب سے آواز آئی کہ اے با یزید اس قدر ادب جو تو نے ملحوظ رکھا ۔ میں نے تیرا نام خلقت میں سلطان العارفین رکھا۔

پھر فرمایا کہ احمد معشوق رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا کہ ایک دفعہ آپ جاڑے کے موسم میں چلے کی رات نصف شب کے قریب جب باہر نکلے تو پانی میں چلے گئے اور دل میں ٹھان لی کہ جب تک یہ معلوم نہ ہوجائے کہ میں کون ہوں ہر گز پانی سے باہر نہ نکلوں گا ۔ آواز آئی کہ تو وہ شخص ہے جس کی شفاعت سے قیامت کے دن بہت سے آدمی بخشے جائیں گے۔
شیخ احمد نے کہا میں یہ بات پسند کرتا ، مجھے یہ معلوم ہونا چاہئے کہ میں کون ہوں۔

پھر آواز سنی کہ میں نے حکم کیا ہے کہ تمام درویش اور عارف میرے عاشق ہوں اور تو میرا معشوق ہو۔

پھر خواجہ صاحب وہاں سے باہر نکلے ۔ جو شخص آپ کو ملتا السلام علیکم احمد معشوق کہتا۔

پھر فرمایا کہ شمس العارفین نماز ادا نہ کرتے تھے جب لوگوں نے آپ سے اس کا سبب دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کہ نماز بغیر سورہ فاتحہ کے پڑھتا ہوں لوگوں نے کہا کہ یہ کیسی نماز ہے پھر لوگوں نے التجاء کی تو آپ نے فرمایا کہ سورہ فاتحہ تو پڑھتا ہوں لیکن اِیَّاکَ نعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ نہیں پڑھتا، لوگوں نے عرض کی کہ آپ ضرور پڑھیں ۔

اس کے بعد دیر تک گفتگو ہوتی رہی ۔ جب نماز کیلئے کھڑے ہوئے اور سورہ فاتحہ پڑھنی شروع کی تو جب اِیَّاکَ نعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ پر پہنچے تو آپ کے وجود مبارک کے ہر رونگٹے سے خون جاری ہو گیا ۔
پھر حاضرین کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ میرے لئے نماز درست نہیں ۔ گو لوگ تو کہتے ہیں کہ میںنماز ادا کرتا ہوں۔

جب خواجہ صاحب ان فوائد کو ختم کر چکے تو یاد خدا میں مشغول ہو گئے اور خلقت اور دعا گو واپس چلے آئے۔

 اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلیٰ ذٰلِکَ۔ 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں