(مجلس(۲۷
آخری زمانے میں عالموں کی بے قدری
عالموں کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے زبان مبارک سے فرمایا کہ حدیث میں ہے کہ جب آخری زمانہ آئے گا امیر زبردست ہوجائیں گے اور عالم روزی کمانے کی خاطر محنت مشقت کریں گے اور جہاں میں فساد برپا ہوگااور زمینوں اور پہاڑوں میں ان پر عیش تنگ ہوجائے گی۔
پھر فرمایا کہ امیر لوگ زبردست ہوجائیںگے اور عالم لوگ عاجز۔ پھر خداوند تعالیٰ خلقت سے اپنی برکت اٹھائے گا اور شہر ویران ہوجائیں گے اور دین میں فساد واقع ہوگا۔ پس تمہیں یاد رہے کہ وہ لوگ اہل دوزخ ہیں۔ نَعُوْذُ بِاللہِ مِنْھَا۔
پھر صدقہ کے بارے میں آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایاکہ ایسے شخص کو صدقہ دے جو درویشوں کو مہمان رکھتا ہے۔ دس گنا ثواب ملتا ہے اور اپنے قریبیوں کو صدقہ دینے سے ہزار گنا ثواب ملتا ہے پس انسان کو لازم ہے کہ صدقہ ایسے طور پر دے کہ خداوند تعالیٰ خوش ہو۔
جو نہی کہ خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے اس بیان کو ختم کیا۔آپ
یاد الٰہی میں مشغول ہوگئے اورخلقت اور دعا گو واپس چلے آئے۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلیٰ ذٰلِکَ۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں