صفحات

جمعہ، 12 جولائی، 2013

مالِ دنیا اور صدقہ

مجلس(۱۷)

مالِ دنیا اور صدقہ

دنیا اور مال کے جمع کرنے کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی۔آپ نے زبان مبارک سے فرمایا کہ مرد کو ایسا ہونا چاہئیکہ اس دنیا کی طرف نگاہ نہ کرے اور نزدیک نہ پھٹکے اور جو کچھ اسے ملے خداکی راہ میں خرچ کردے اور کچھ ذخیرہ نہ کرے۔

پھر فرمایا کہ میں نے خواجہ یوسف چشتی رحمتہ اللہ علیہ کی زبانی سنا ہے کہ ما ل کا شکریہ ادا کرنا صدقہ دینا ہے اور اسلام کا شکریہ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن کہنا ہے۔اور جو شخص اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن کہتا ہے اسلام کا شکریہ بجا لاتا ہے اور جو شخص زکوٰۃ اور صدقہ دیتا ہے وہ مال کا حق ادا کرتا ہے۔


بچوں کو مارنے کی ممانعت

پھر لڑکوں کی بُری خوکی بابت ذکر ہواتو آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ  ﷺ  نے فرمایا کہ جب لڑکے روتے ہیںتو لعنتی شیطان ان کا کان اینٹھتا ہے تب وہ روتے ہیں پس جو والدین اپنے بچوں کو مارتے ہیں، ان کے نام گناہ لکھا جاتا ہے۔

پھر فرما یا کہ حدیث میں آیا ہے کہ چھوٹا بچہ نہیں روتا تا وقتیکہ اس کو شیطان نہ ستائے لیکن بچہ روئے تولَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا باللہ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ کہنا چاہئے تاکہ تمہیں خوشخبری ہو اور وہ رونے سے باز رہے۔
عالموں کا حسد

پھر فرمایا کہ عالموں کا حسد اچھا نہیں خصوصاً مسلمان کے لئے بعض عالموں کا قول ہے کہ حسد دل سے نکال دینا چاہئے جب حسد کو دل سے نکال دیں گے تو بہشت میں جائیں گے۔

پھر فرمایا کہ عالموں کا حسد زیادہ ہے کیونکہ وہ دنیا کہ بابت حسد نہیں کرتے بلکہ ایک ایسی چیز کی نسبت حسد کرتے ہیںجس کے دیکھنے میں نقصان نہیں۔

جو نہی کہ خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ان فوائدکو ختم کیا۔آپ یاد الٰہی میں مشغول ہوگئے اورخلقت اور دعا گو واپس چلے آئے۔

 اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلیٰ ذٰلِکَ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں