صفحات

ہفتہ، 13 جولائی، 2013

شراب نوشی وغیرہ

مجلس (6)
شراب نوشی وغیرہ

شراب پینے کے بارے میں گفتگو ہوئی۔آپ نے زبان مبارک سے فرمایاکہ مشارق الانوار میں لکھاہوا ہے کہ امیرالمومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پیغمبر خدا سے روایت کی ہے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے، اے عمر! یہ حلال نہیں ہے محض حرام اور خراب ہے اور یہ شراب مومنوں کی نہیں ۔ پھر فرمایا کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جس وقت مل جائے اور سخت نہ ہو تو اس کا پی لینا جائز ہے اور اگر مل کر کچھ عرصہ گزرجائے اور سخت ہو جائے تو اس کا پینا جائز نہیں پھر فرما یا کہ نبی کریم ﷺ نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو شراب پیئے یا بیچے یا اس کی قیمت میں سے کچھ کھائے۔پھر خواجہ صاحب آنسو بھر لائے ا ور فرمایا کہ یہ شریعت ہے جو اسے حرام گنتے ہیںورنہ طریقت میں ندی کا پانی پینے سے خدا کی بندگی میں سستی ہو۔بمنزلہ شراب کے ہے۔


نفس کو خواہشات پر سزا

پھر فرمایا کہ ایک دفعہ با یزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ سے لوگوں نے پوچھا کہ اپنے مجاہدے کا حال بیان کریں ۔ آپ نے فرمایا کہ اگر میں اپنے مجاہدے کا حال بیان کروں تو تمہیں اس کے سننے کی طاقت نہیں لیکن ہاں جو میں نے اپنے نفس کے ساتھ معاملہ کیا ہے اگر وہ سننا چاہتے ہو تو میں سناتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ ایک دفعہ رات کے وقت میں نے نفس کو نماز کے لیے طلب کیا تو اس نے موافقت نہ کی اور نماز قضاء ہو گئی ۔ اس کا باعث یہ تھا کہ میں نے مقررہ مقدار سے کچھ زیادہ طعام کھا لیا تھا جب دن چڑھاتو میں نے دل میں ٹھان لی کہ سال بھر میں نفس کو پانی نہیں دوں گا۔

پھر فرمایا کہ ایک دفعہ ابو تراب بخشی رحمتہ اللہ علیہ کو سفید روٹی اور مرغی کے انڈے کھانے کی خواہش پیدا ہوئی کہ اگر آج مل جائے تو ان سے روزہ افطار کروں۔اتفاقاً عصر کی نماز کے وقت خواجہ صاحب تازہ وضو کرنے کے لیے باہر نکلے تو ایک لڑکے نے آکر خواجہ صاحب کا دامن پکڑ لیا اور کہا کی یہ وہ چور ہے جو اس دن میرا اسباب چرا کر لے گیا تھا اور آج پھر آیا ہے تا کہ کسی اور کا مال چرا کر لے جائے۔ یہ غوغا سن کر لوگ اکھٹے ہوئے ۔ لڑکا اور اس کا باپ مکے مارنے لگا۔خواجہ صاحب نے ان کی گنتی کی تو چھ لگ چکے تھے۔ اتنے میں ایک شخص آیااس نے خواجہ صاحب کو پہچان کر کہا کہ اے لوگو! یہ چور نہیں ، یہ تو خواجہ ابو تراب بخشی رحمتہ اللہ علیہ ہیں۔خلقت معافی کی خواستگار ہوئی کہ آپ معاف فرمادیں ہمیں معلوم نہ تھا۔ جب وہ آدمی خواجہ صاحب کو اپنے گھر لے گیا اور شام کی نماز کے بعد بیٹھے تو مرغی کے انڈے اور روٹی جو اتفاقیہ اس کے گھر میں موجود تھے آپ کو پیش کیے۔جب خواجہ صاحب نے دیکھاتو آپ مسکرائے اور فرمایا کہ اٹھالے میں نہیں کھا ئوں گا۔ اس نے عرض کیا کہ کیوں؟ آپ نے فرمایا کہ آج میں نے صرف اس کی خواہش کی تھی تو بغیر کھانے کے میں نے چھ مکے کھائے۔ اگر میں اسے کھالوں تو شاید کیا مصیبت نازل ہو۔ خواجہ صاحب اٹھ کر بغیر کھائے چل دئیے۔

جو نہی کہ خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ان فوائدکو ختم کیا خلقت اور دعا گو واپس چلے گئے۔

 اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلیٰ ذٰلِکَ۔ 


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں