مجلس (۵)
صدقے کی فضیلت اور فوائد
صدقہ دینے کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی۔ آپ نے زبان مبارک سے فرمایا کہ خواجہ صاحب یو سف چشتی رحمتہ اللہ علیہ کے فتا ویٰ میں ۔ میں نے لکھا دیکھا ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں عرض کی کہ سب عملوں سے اچھا عمل کونسا ہے تو آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ صدقہ دینا دوزخ کی آگ کے لیے پردہ ہوتا ہے پھر فرمایا کہ ایک دفعہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ صدقے کہ بعد دوسرے درجے پر کونسا نیک عمل ہے؟آپ ﷺ نے فرمایا کہ قرآن کا پڑھنا پھر فرمایا کہ عبداللہ بن مبارک نے کہا ہے کہ میں نے ستر سال تک اپنے نفس کے ساتھ مجاہدہ کیا ہے مجھے معلوم ہوا کہ میں نے مصیبتیں بہت اٹھائی ہیں لیکن بارگاہ الٰہی کا دروازہ نہیں کھلا جو نہی کہ میں نے اپنی طرف خیال کیا جو مال میری ملکیت میں تھا سب راہ خدا میں صرف کیا تو دوست یعنی خدا میرا بن گیا اور جو دوست کی ملکیت تھی سب میری ملکیت ہوگئی۔
پھر فرمایا کہ ابراہیم ادھم رحمتہ اللہ علیہ نے آثار اولیاء میں لکھا ہے کہ ایک درم صدقہ دینا ایک سال کی ایسی عبادت سے بہتر ہے جس میں دن کو روزہ رکھا جائے اور رات کو کھڑے ہو کر عبادت کی جائے پھر فرمایا کہ جس روز امیرالمومنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ۸۰ ہزار دینار خدا کی راہ میں خرچ کئے اور گودڑی پہن کر سید عالم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آنحضرت ﷺ نے پوچھا کہ اے ابو بکر رضی اللہ عنہ ! دنیاوی ذخیرے میں سے کچھ باقی رکھا ہے ؟ تو آپ نے عرض کی اے رسول اللہ ﷺ ! خدا اور رسول یعنی خدا اور خدا کا رسول ﷺ کافی ہے۔جونہی کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ کہا فوراً جبرائیل علیہ السلام مع ستر ہزار فرشتوں کے گودڑی پہنے ہوئے نازل ہوئے اور سلام کے بعد عرض کی اے رسول اللہ ﷺ ! حکمِ الٰہی اس طرح پر ہے کہ آج حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ہماری راہ میں اپنا مال خرچ کیا ہے ان کو ہمارا سلام دو اور کہو !کہ تو نے وہ کام کیا ہے جس میں ہماری رضا تھی اور ہم وہ کام کرتے ہیں جس میں تیری رضا ہے۔ اور محمد ﷺ اور تمام فرشتوں کو حکم ہوا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی موافقت کی وجہ سے سب گودڑی پہنیں کیونکہ قیامت کے دن گودڑی پہنے والوں کو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی گودڑی کے صدقے میں ہم بخشیں گے۔
پھر فرمایا کہ ایک دفعہ امیرالمومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اے رسول اللہ ﷺ ! قرآن شریف پڑھنا بہتر ہے یا صدقہ دینا؟ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ صدقہ دینا بہتر ہے کیونکہ صدقہ دوزخ کی آگ سے بچاتا ہے۔
پھر فرمایا کہ ایک دفعہ ایک یہودی راستے میں کھڑا ایک کتے کو روٹی کا ٹکڑا کھلا رہا تھا ۔ اتفاق سے خواجہ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کا بھی ادھر سے گزر ہوا۔ آپ نے اس سے پوچھا کہ اپنا ہے یا بیگانہ ؟ اس نے کہا کہ مرد بیگانہ کا ہے خواجہ صاحب نے کہا جب یہ حالت ہے تو تو کیا کرتا ہے کیونکہ یہ قبول نہیں ۔ اس نے کہا کہ اگر یہ قبول نہیں تو تا ہم وہ (خدا) تو دیکھتا ہے کہ میں کیا کر رہا ہوں۔
الغرض! مدت کے بعد خواجہ رحمتہ اللہ علیہ کعبہ معظًمہ میں پہنچے تو پر نالے کے نیچے سے آواز آئی کہ رَبًِی (یعنی (اے) میرے ربً) ہھر غیب سے آواز آئی کہ لَبًَیْکَ عَبْدِیْ ( میرے بندے! میں حاضر ہوں) خواجہ صاحب حیران ہو ئے کہ چل کر دیکھوں تو سہی۔ وہ کیسا نیک بخت بندہ ہے جونہی کہ آپ وہاں پہنچے کیا دیکھتے ہیں کہ ایک شخص سجدے میں سر رکھ کر رَبًِی ّ(اے میرے رب) پکارتا ہے آپ تھوڑی دیر وہاں ٹھرے۔اتنے میں اس شخص نے سر اٹھا یا اور خواجہ صاحب سے کہا : کیا تو مجھے پہچانتا ہے؟ خواجہ صاحب نے کہا نہیں ۔ اس نے کہا میں وہی آدمی ہوں جسے تو کہتا تھا کہ میری نیکی قبول نہیں ۔ دیکھا ! میری چیز کو اس نے قبول کیا اور مجھے بلالیا۔
پھر فرمایا کہ آثار اولیاء میں، میں نے لکھا دیکھا ہے کہ صدقہ نوری ہے اور حوروں کی خوبصورتی کا باعث اور صدقہ ہزار رکعت نماز سے بہتر ہے۔پھر فرمایا کہ جب قیامت کا دن ہوگاتو صدقہ دینے والوں کا ایک گروہ عرش کے نیچے مقام پائے گااور جن لوگوں نے موت سے پہلے صدقہ دیا ہے موت کے بعد وہ ان کے لیے گنبد بنے گا۔
پھر فرمایا کہ صدقہ بہشت کی سیدھی راہ ہے اور جو شخص صدقہ دیتا ہے وہ خدا کی رحمت سے دور نہیں ہوتا۔
پھر فرمایا کہ حاجی خواجہ رحمتہ اللہ علیہ کے جماعت خانہ میں، میں نے ان اشخاص سے جو صبح سے شام تک آتے تھے کوئی بھی ایسا نہیں دیکھا جو کچھ کھا کر نہ جاتا ہواور اگر اس وقت کوئی چیز مہیا نہ ہوتی تو خدام کو آپ فرماتے کہ پانی پلا دو تاکہ دن دینے سے خالی نہ جائے۔
پھر فرمایا کہ اے درویش! زمین سخی آدمی پر فخر کرتی ہے اور رات اور دن جب زمین پر چلتا ہے تو نیکیاں اس کے اعمال نامے میں لکھی جاتی ہیں ۔
پھر فرمایا کہ سخی لوگ ایک ہزار سال سب سے پہلے بہشت کی بو سونگھیں گے اور ہر روز ان کو پیغمبری کا ثواب ملتا رہے گا۔
جو نہی کہ یہ فوائد خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ختم کئے خلقت اور دعا گو واپس چلا آئے۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلیٰ ذٰلِکَ۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں