مجلس(۱۳)
قضاء نمازوں کا کفارہ
نماز کے کفارہ کا ذکر ہوا۔آپ نے فرمایا کہ امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہُ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے کہ جس شخص کی نمازیں قضاء ہو گئی ہیں اور اسے معلوم نہ ہو کہ کتنی ہیں پس سوموار کی رات پچاس رکعت نماز ادا کرے اور ہر رکعت میں ایک دفعہ سورٍٍۂ فاتحہ اور ایک دفعہ سورۂ اخلاص پڑھے تو خداوند تعالیٰ اس کی گزشتہ نمازوں کا کفارہ کرتا ہے خواہ اس نے سو سال بھی نمازیں ادا نہ کی ہوں۔
اس کے بعد رات کو قیام کے بارے میں گفتگو ہوئی ۔ آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص رات کو قیام کرے اور خلقت سوئی ہوئی ہوتوخداوند تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیتا ہے تا کہ دوسری رات تک اس کو نگاہ میں رکھیں اور رات سے لے کر دن نکلنے تک اس کیلئے بخشش طلب کرتے رہیں۔
روزِ جمعہ بیس رکعت نماز کا اجرِ عظیم
اور ایک اور روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص جمعہ کے روز بیس رکعت نماز ادا کرے اور ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ اور سورۂ اخلاص ایک مرتبہ پڑھے تو قیامت کے دن لاکھ صدیقوں اور شہیدوں کے ہمراہ اٹھے گااور ہر رکعت کے بعد دن رات کا ثواب اسے ملے گا اور ہر حرف کے بدلے نور پائے گا اور پل صراط سے آسانی کے ساتھ گزر جائے گا۔
پھر فرمایا کہ جو شخص قیام کرے اگر چہ اونٹ کی گردن کے برابر گردن ہلائے ۔ اس سے بہتر ہوتا ہے کہ وہ ساٹھ حج اور عمرہ کرے اور رحمت کے دروازے اس کیلئے کھل جاتے ہیں۔
لذت ایمان
پھر فرمایا کہ ایک دفعہ میں سمر قند میں مسافر تھا ۔ ایک بزرگ تھا جسے شیخ عبدالواحد سمر قندی کہتے ہیں اس سے میں نے سنا کہ ایمان میں کچھ مزہ نہیں تا وقتیکہ دن اور رات قیام نہ کیا جائے پس جا شخص یہ دونوں کام کرتا ہے وہ ایمان کا مزہ چکھتا ہے۔
امام اعظم رضی اللہ عنہُ کی نمازِ عاجزانہ اور حنفیوں کی بخشش
پھر فرمایا کہ امام اعظم ابو حنیفہ کوفی رحمتہ اللہ علیہ تیس سال تک رات کو نہیں سوئے اور آپ کا پہلو مبارک زمین پر نہیں لگا۔
پھر فرمایا کہ جب انہوں نے آخری حج کیا تو امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ کعبے کے دروازے پر آئے اور کہا دروازہ کھولو!آج کی رات خدا وند تعالیٰ کی عبادت کرلیں کون جانتا ہے کہ دوسری دفعہ مجھے حج کی قدرت حاصل ہو یا نہ ہو۔ دروازہ کھل گیا۔امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ اندر چلے گئے خانہ کعبہ کے دو ستونوں کے درمیان نماز ادا کرنے کیلئے کھڑے ہوئے اور دائیں پاؤں کو بائیں پاؤں پر رکھ کر آدھا قرآن شریف پڑھ کر رکوع اور سجود پورا کرکے کہا اے خداوند تعالیٰ! میں نے تیری اطاعت ایسی نہیں کی جیسا کہ اطاعت کا حق تھااور میں نے نہیں پہچانا تجھے جیسا کہ تیرے پہچاننے کا حق تھا۔
غیب سے آواز آئی کہ اے ابو حنیفہ!تو نے پہچانا جیسا کہ پہچاننے کا حق تھا میں نے تجھے اور ان لوگوں کو جو تیرے پیرو ہیں اور وہ لوگ جو تیرے مذہب پر چلیں گے بخشا۔
پھر فرما یا کہ یوسف چشتی رحمتہ اللہ علیہ چالیس سال تک نہ سوئے اور آپ کی پیٹھ مبارک زمین پر نہ لگی۔
خواب میں رویتِ حق
پھر فرمایاکہ خواجہ احمد چشتی رحمتہ اللہ علیہ نے تیس سال تک رات میں قیام کیا اور رات ہر دو رکعت میں دو دو دفعہ قرآن مجید ختم کرتے۔
پھر فرما یا،کہتے ہیں کہ انہوں نے خداوند تعالیٰ کو خواب میں دیکھا ۔ اس کے بعد باقی عمر وہ نہ سوئے ۔۷۰ سال اور جیتے رہے۔جب آپ کے انتقال کا وقت قریب پہنچا تو ایک بزرگ نے آپ کو خواب میں دیکھا دیکھ کر پوچھا کیف حالک۔ آپ کی کیا حالت ہے۔ کس طرح آپ جاتے ہیں؟آپ نے فرمایا کہ میں مردانہ طور پر جاتا ہوں۔اے عزیزو! آج ۷۰ ستر سال کا عرصہ گزرا ہے کہ میں نے وہ خواب دیکھا تھا ۔ آج تک میں نے کسی سے اس کا ذکر نہیں کیا۔ اس وقت بھی میں اسی خواب میں غرق ہو کر جا تا ہوں۔
پھر فرمایا کہ اے درویش! دنیا میں بھی نور ہے اور پل صراط میں بھی اور بہشت میں بھی نور ہے۔
پھر فرمایا کہ جو شخص رات کو قیام کرتا ہے جو دعا کرتا ہے وہ قبول ہوجاتی ہے اور اس کا خواہش مند ہوتا ہے اور خداوند تعالیٰ اس سے خوش ہوتا ہے۔
پھر فرمایا کہ ایک دفعہ میں بخارا کی طرف سفر کر رہا تھا۔ ایک درویش کو میں نے دیکھا جو کہ از حد بزرگ تھا ۔میں کچھ مدت اس کی صحبت میں رہا ۔کسی رات کو میں نے نہ دیکھا کہ وہ قیام میں نہ گزارتے ہوں۔آخر سنا گیا کہ چالیس سال سے اس درویش نے پہلو زمین پر نہیں رکھا۔
جو نہی کہ خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ان فوائدکو ختم کیا۔آپ یاد الٰہی میں مشغول ہوگئے اور خلقت اور دعا گو واپس چلے آئے۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلیٰ ذٰلِکَ۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں