مجلس (۲)
منا جا تِ آدم علیہ السلام
مجلس دوم میں حضرت آدم علیہ السلام کی مناجات کے بارے میں گفتگو ہوئی۔خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ میں نے خواجہ یوسف چشتی رحمتہ اللہ علیہ کی زبانی سنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ابواللیث سمر قندی کی فقہ میں لکھا دیکھا ہے کہ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن علی طالب روایت کرتے ہیں فَتَلٰقّٰی اٰدَمُ مِنْ رَّبِہ کَلِمَاتٍ (پس آدم نے اپنے پروردگار سے سیکھ لیں کچھ باتیں)یہ وہ وقت تھا جب حضرت آدم علیہ السلام بہشت سے بھا گے تھے۔ خدا وند تعا لیٰ نے فرمایا۔ اے آدم ! کیا تو مجھ سے بھاگتا ہے۔ عرض کی کہ نہیں میرے پروردگار ! بلکہ مجھے اس رسوائی کے سبب تجھ سے شرم آتی ہے۔
سورج اور چاند گرہن
پھر سورج گرہن اور چاند گرہن کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے زبان مبارک سے فرمایاکہ ابن عباس روایت کرتے ہیںکہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں چاند گرہن واقع ہواجب پیغمبر خدا ﷺ سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب دنیا کے بندوں کے گناہ بہت ہو جاتے ہیںاور بہت گستاخی کرتے ہیں تب حکم ہوتا ہے کہ سورج گرہن یا چاند گرہن واقع ہواور ان کے چہرے سیاہ کئے جاتے ہیںتا کہ خلقت عبرت پکڑے۔ پھر فرمایا کہ جب چاندگرہن محرم کے مہینے میں واقع ہوتو اس سال کشت و خون اور فساد برپا ہوتے ہیںاور اگر ماہ ربیع الاول میں ہو تو اس سال قحط اور موت زیادہ ہوگی اور مینہ اور ہوا زیادہ ہوگی۔ اور اگر ماہ ربیع الآخر میں واقع ہو تو بزرگوں کی تبدیلی اور ملک میں فتور واقع ہوگا۔اور جب جمادی الاول میں واقع ہو تو بجلی اور بارش بکثرت ہوگی اور نا گہانی موتیں کثرت سے واقع ہوںگی۔اگر جمادی الآخر میں واقع ہو تو اس سال فصلیں عمدہ ہوں گی اور نرخ ارزاں ہوگا اور لوگ عیش و عشرت میں بسر کریں گے۔اور اگر ماہ رجب میں واقع ہو اور مہینہ کا شروع اور جمعہ کا روز ہوتو اس سال بھوک اور مصیبتیں بہت نازل ہوں گی اور آسمان پر سیاہی نازل ہوگی۔ اگر ماہ شعبان میں واقع ہو تو اس سال خلقت کے درمیان صلح اور آرام ہوگا اور اگر ماہ رمضان میں واقع ہو اور مہینہ کا شروع اور جمعہ کا روز ہوتو اس سال قحط اور مصیبت نازل ہوگی اور آسمان سے بڑی سخت آواز آئے گی جس سے خلقت بیدار ہوجائے گی اور کھڑے ہوئے آدمی منہ کے بل گر پڑیں گے۔اگر ماہ شوال میں واقع ہو تو اس سال مردوں کو بہت سی بیماریاں لا حق ہو ں گی ۔اگر ماہ ذوالحجہ میں واقع ہو تو اس سال فراخی ہوگی اور اس سال حاجیوں کی راہ منقطع ہو گی۔اور اگر ماہ محرم میں واقع ہو تو جاننا چاہئے کہ سارا سال فساد برپا ہوں گے اور ایک دوسرے کے عیب بیان کریں گے اور دنیا کو چھوڑیں گے اور آخرت ویران کریں گے اور قول و قرار میں مومن نہیں رہیں گے وہ منافق دولت مند کو بزرگ خیال کریں گیاور درویشوں کو ذلیل خیال کریں گے۔ اس وقت خداوند تعالیٰ ان پر مصیبتیں نازل کرے گاتا کہ ان کی عیش تلخ ہوجائے پھر فرمایا جب ایسی حالت ہو تو مصیبتوں کے منتظر رہنا چاہئے۔
جب ان فوائد کو خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ختم کیا ۔ تو آپ یاد الٰہی میں مشغول ہو گئے اور دعا گو واپس چلا آیا۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلیٰ ذٰلِکَ۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں