مجلس(۲۰)
مومن کون؟
مومن کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی تو آپ نے زبان مبارک سے فرمایا کہ مومن وہ شخص ہے جو تین چیزوں کو دوست رکھے۔ اول موت، دوم درویشی، سوم فاتحہ۔پس جو شخص ان تین چیزوں کو دوست رکھتا ہے۔ فرشتے اسے دوست رکھتے ہیں اور اس کا بدلہ بہشت ہوتا ہے۔
پھر فرمایاکہ خداوند تعالیٰ درویشوں کو دوست رکھتا ہے اور مومن خداوند تعالیٰ کے دوست ہوتے ہیں۔
پھر فرمایا کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیںکہ جس شخص کے پاس آٹھ ہزار درہم ہوں۔ وہ دولت مند ہوتا ہے جس کے پاس اس سے کم ہوں۔ وہ درویش ہے۔اور جس کے پاس ان میں سے کچھ بھی نہ ہووہ دن رات شکر بجا لائے۔ وہ پیغمبر حضرت ایوب علیہ السلام کا مرتبہ پائے گا۔
مستحقین رحمتِ الٰہی
پھر فرمایاکہ میں نے خواجہ مودود چشتی رحمتہ اللہ علیہ کی زبانی سنا ہے کہ خداوند تعالیٰ تین گروہ کی طرف نظررحمت سے دیکھتا ہے اور وہ لوگ عرش کے نیچے ہوں گے۔اول وہ ہمیشہ ہمت کرتے ہیں،دوسرے وہ جو ہمسایوں اور عورتوں کو خوش رکھیں۔ تیسرے وہ جو درویشوں اور عاجزوں کو کھاناکھلاتے ہیں۔
پھر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے افضل نماز اور دوسرے درجہ پر صدقہ اور تیسرے درجہ پر قرآن شریف پڑھنا۔پس جو شخص ان تینوں کو بجا لانے میں کوشش کرتا ہے۔ وہ میری امت سے ہے اور بہشت میں جائے گا۔
پھر فرمایاکہ امیرالمومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایاہے کہ رسول اللہﷺ نے ہمسایہ کی بابت اس قدر ذکر فرمایا کہ مجھے گمان پیدا ہوا اور پوچھا کی اے رسول اللہ ﷺکیا ہمسایہ کے فوت ہوجانے کے بعد اس کی ورثہ کا مالک ہمسایہ ہو سکتا ہے یا نہیں؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ ہاں! ہوسکتا ہے۔ اگر کوئی وارث نہ ہو۔
پھر فرمایا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ جو شخص ہمسایہ کے ساتھ حتی الوسع مہربانی سے پیش آئے۔ان شاء اللہ تعالیٰ وہ قیامت کے دن میرے ہمراہ ہوگا اور بہشت میں جائے گا۔
جو نہی کہ خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ان فوائدکو ختم کیا۔آپ یاد الٰہی میں مشغول ہوگئے اورخلقت اور دعا گو واپس چلے آئے۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلیٰ ذٰلِکَ۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں