مجلس (۱۰)
مصیبت میں آہ و زاری ( محرومِ رحمت ،مستحقِ لعنت)
مصیبت کے بارے میں گفتگو ہو رہی تھی آپ نے فرمایا کہ عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ نے پیغمبر خدا ﷺ سے روایت کی ہے کہ جو شخص مصیبت میں آہ و زاری کرتا ہے خدا اس پر لعنت کرتا ہے ۔
پھر فرمایا کہ مشا ئخ طبقات نے کہا ہے کہ مصیبت میں آہ و زاری کرنا کفر ہے اور جو شخص ایسا کرتا ہے اس کا نام منافق مومنوں میں لکھتے ہیں اور ایسے شخص پر خدا کی لعنت ہوتی ہے جو مصیبت کے وقت شور کرے۔
پھر فرمایا کہ مشا ئخ طبقات نے کہا ہے کہ جو شخص مصیبت کے وقت گریہ و زاری کرتا ہے اور واویلا مچاتا ہے چالیس روز کے گناہ اس کے ذمے لکھے جاتے ہیں اور سو سال کی عبادت اس کی ضبط کی جاتی ہے اور اگر اسی حالت میں بغیر توبہ کئے مر جائے تو دوزخ میں شیطان کے ہمراہ ہوگا۔
پھر فرمایا کہ ایک دفعہ خواجہ ابراہیم ادھم رحمتہ اللہ علیہ کا ایک راہ سے گزر ہوا جب آپ نے رونے چلانے کی آواز سنی تو قلعی پگھلا کر کانوں میں ڈال لی اور بہرے ہوگئے۔
اس کے بعد فرمایا کہ جو شخص مصیبت کے وقت اپنا گریبان چاک کرے خدا اس کی طرف نظر رحمت سے نہیں دیکھتااور قیامت کے دن اس کو سخت عذاب میں مبتلا کرے گا اور ایک روایت میں اس طرح آیا ہے کہ جس شخص نے کپڑے پھاڑ ڈالے تو قیامت کی دن اس کی دونوں بھوؤں کے درمیان لکھا ہوگا کہ یہ شخص خداوند تعالیٰ کی رحمت سے نا امید ہے مگر توبہ کرے تو نہیں اور جو شخص مصیبت کے وقت لباس کو سیاہ کرے اس کے لیے دوزخ میں ستر گھر تیار ہوتے ہیں اور اس کی کسی قسم کی اطاعت قبول نہیں ہوتی اور ایسا ہو کہ گویا اس نے ستر مومنوں کا جان سے مار ڈالاہے اور ہزار بدی اس کے اعمال نامہ میں لکھی جاتی ہے اور آسمان و زمین کے فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں جب تک کہ وہ سیاہ کپڑے پہنے رہے۔پھر پانی کے دینے کے بارے میں گفتگو ہوئی تو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے زبان مبارک سے فرمایا کہ جس وقت کوئی آدمی پیاسے کو پانی دیتا ہے اسی گھڑی اس کے تمام گناہ بخشے جاتے ہیں گو یا کہ وہ ابھی ماں کے شکم سے نکلا ہے اور بغیر حساب کے بہشت میں جائے گا اور اگر اسی روز فوت ہوجائے تو شہید ہو کر فوت ہوگا۔
بھوکوں کو کھانا کھلانا اور لڑکیوں کی پیدائش پرخوشی کرنا
پھر فرمایاکہ جو شخص بھوکے کو کھانا کھلائے ، خداوند تعالیٰ اس کی ہزار حاجتوں کو پورا کرتا ہے اور دوزخ کی آگ سے آزاد کرتا ہے اور بہشت میں اس کیلئے ایک محل بناتا ہے۔
پھر فرمایا لڑکیاں خدا کا ہدیہ ہیںپس جو شخص ان کو خوش رکھتا ہے خدا اور رسول اللہ ﷺ اس سے خوش ہوتے ہیںاور جس شخص کو خدا وند تعالیٰ لڑکیاں عنایت کرے خدا اس سے خوش ہوتا ہے اور جو شخص لڑکیوں کے پیدا ہونے پر خوشی کرے تو یہ خوشی کرناخانہ کعبہ کی ستر(۷۰مرتبہ) زیارت کرنے سے بھی زیادہ فضیلت والی ہے اور جو والدین اپنی لڑکیوں پر رحم کرتے ہیں خدا ان پر رحم کرتا ہے۔
پھر فرمایا میں نے آثار اولیاء میں لکھا دیکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کے ہاںایک لڑکی ہوگی قیامت کے دن اس کے اور دوزخ کے درمیان پانچ سو سال کی راہ کا فرق ہوگا۔
پھر فرمایا کہ اولیاء اللہ اور انبیاء کرام لڑکیوں کو بہ نسبت لڑکوں کے زیادہ پیار کرتے تھے۔
پھر فرمایا کہ خواجہ سرّی سقطی رحمتہ اللہ علیہ کی ایک لڑکی تھی جس کو وہ بہت پیار کرتے تھے چنانچہ ایک دفعہ خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کو نئے کوزے اور ٹھنڈے پانی کی خواہش پیدا ہوئی جونہی کہ آپ کی زبان مبارک سے نکلا کہ اگر سرد پانی اور نیا کوزا ہو تو اس سے رازہ افطار کروں اور بزرگوار کی لڑکی نے سنا توفوراً لا کر صاحب خانہ کے آگے رکھ دیا۔عصر کی نماز کا وقت تھاخواجہ صاحب کو نیند آئی اور مصلے پر سو گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ گویا خدا وند تعالیٰ بہشت جیسے گھر میں اتر آیا ہے اور پوچھتا ہے کہ اے لڑکی! تو کس کی بیٹی ہے؟ اس نے کہا، میں اس شخص کی بیٹی ہوں جس نے نئے کوزے میں سرد پانی پیا ۔ جونہی کہ ہاتھ پر ہاتھ مارا کوزا ٹوٹ گیا ۔ اس نے نعرہ مار کر کہا، اے سر ّی! نئے کوزے میں پانی نہیں پینا چاہیے جو اس قدر دنیاوی لگائو رکھتے ہیں وہ ہرگز ہر گز ایسے مرتبے پر نہیں پہنچ سکتے۔
جو نہی کہ خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ان فوائدکو ختم کیا خلقت اور دعا گو واپس چلے آئے۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلیٰ ذٰلِکَ۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں