مجلس(۹)
حصولِ معاش میں مختلف پیشوں کی فضیلت
روزی کمانے اورکام کرنے کے بارے میں گفتگو ہوئی تو آپ نے زبان مبارک سے فرمایا کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے ایک شخص نے اٹھ کر پوچھا اے رسول اللہ ﷺ میرے پیشے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ تیرا کیا پیشہ ہے؟ اس نے عرض کیا کہ درزی کا کام ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تو راستی سے یہ کام کرے تو بہت اچھا ہے قیامت کے دن ادریس پیغمبر کے ہمراہ بہشت میں جائے گا۔پھر ایک اور آدمی نے اٹھ کر عرض کیا کہ اے رسول اللہ ﷺ میرے پیشے کی نسبت آپ کی کیا رائے ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تو کیا کام کرتا ہے؟ اس نے عرض کی کھیتی باڑی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ بہت اچھا کام ہے اس واسطے کے یہ کام حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تھا یہ مبارک اور فائدہ مند کام ہے۔ خداوند تعالیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا سے تجھے برکت دے گا اور قیامت کے دن بہشت میں تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نزدیک ہوگا۔پھر ایک اور آدمی نے اٹھ کر عرض کیا کہ اے رسول اللہ ﷺ آپ کی رائے میں میرا پیشہ کیسا ہے؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تو کیا کام کرتا ہے؟ اس نے عرض کی کہ میرا کام تعلیم ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا تیرے کام کو خداوند تعالیٰ بہت ہی اچھا جانتا ہے اگر تو خلقت کو نصیحت کرے گا تو قیامت کے دن حضرت خضر علیہ السلام کا ثواب تجھے ملے گا اور اگر تو عدل کرے گا تو آسمان کے فرشتے تیرے لئے معافی کی خواستگار ہوں گے۔پھر ایک آدمی نے اٹھ کر عرض کیا کہ اے نبی کریم ﷺ میرے پیشے کی نسبت آپ کیا فرماتے ہیں ؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تیرا پیشہ کیا ہے ؟ اس نے عرض کی کہ سودا گری۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر تو راستی سے کام کرے گا تو بہشت میں پیغمبری کا ہمراہی ہوگا۔
پھر فرما یا کہ روزی کمانے والا خدا کا دوست ہوتا ہے لیکن اسے چاہیے کہ نماز ہر وقت ادا کرے اور شریعت کی حد سے قدم باہر نہ رکھے کیونکہ حدیث میں ہے کہ ایسا روزی کمانے والا خدا کا پیارا ہے اور خدا کا صدیق (دوست )ہے ۔پھر فرما یا کہ ابو درداء رضی اللہ عنہ دکانداری کیا کرتے تھے۔
جب آخری زمانے میں آپ رضی اللہ عنہ کو مسلمانی کی حقیقت معلوم ہوئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے دکانداری ترک کردی ۔ لوگوں نے کہا کہ آپ نے دکان کیوں چھوڑ دی؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب مجھے معلوم ہوا دکانداری کے ہمراہ مسلمانی ٹھیک طور پر نہیں رہتی تو میں نے دکانداری چھوڑ دی۔ پھر فرمایا کہ روزی کمانے والا خدا کا صدیق ہوتا ہے کیونکہ اس شخص کو خدا پر بھروسہ ہے اور اس شخص پر روزی کمانہ کفر ہے بشرطیکہ جس وقت نماز کا وقت قریب ہو۔ سب کام دھندے چھوڑ کر نماز ادا کرے تو ایسا روزی کمانے والا صدیق ہے۔
جو نہی کہ خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ان فوائدکو ختم کیا خلقت اور دعا گو واپس چلے آئے۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلیٰ ذٰلِکَ۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں