مجلس (۲۳)
موت اور انبیاء علیہم السلام کی یاد
موت کے یادکرنے کے بارے میں گفتگوشروع ہوئی توآپ نے زبان مبارک سے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ سے حدیث میں ہے کہ موت کو یاد کرنا دن رات کے قیام اور عبادت فاضلہ سے بہتر ہے۔
پھر فرمایا کہ زاہدوں میں سب سے اچھا زاہد وہ ہے جو موت کو یاد رکھے اور ہمیشہ موت کے شغل میں رہے۔ایسا زاہد اپنی قبر میں بہشت کا سبزہ زار دیکھے گا۔
پھر فرمایا کہ نبیوں میں سے جو حضرت آدم علیہ السلام کو یاد کرے اور صَلٰوۃُاللہِ عَلَیْہِ تین بار کہے۔ خدا وند تعا لیٰ اس کے تمام گناہ بخش دیتا ہے۔ اگر چہ اس کے گناہ دریا سے بھی زیادہ ہوں اور ان ( آدم علیہ السلام) کے پڑوس میں ہوگا اور جو حضرت دائود علیہ السلام کو یاد کرے اور تین مرتبہ صَلٰوۃُاللہِ عَلَیْہ کہے بہشت میں جس دروازے سے چاہے داخل ہوگا فرمایا کہ نبیوں کے یاد کرنے میں خداوند تعالیٰ اس کے ہفت اندام پر دوزخ کی آگ حرام کرے گا۔
جو نہی کہ خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ان فوائدکو ختم کیا۔آپ یاد الٰہی میں مشغول ہوگئے اورخلقت اور دعا گو واپس چلے آئے۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلیٰ ذٰلِکَ۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں