مجلس(۲۸)
توبہ کرنا فرض ہے
توبہ کا ذکر کرتے ہو ئے آپ نے فرمایا کہ قرآن شریف میں حکم الٰہی یوں ہے:
یٰاَیُّھَا الَّذیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْ اِلَی اللہِ تَوْبَۃً نَّصُوْحًا
( ایمان لانے والو! توبہ کرو اور خدا کی طرف واپس آئو کہ خدا وند تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا ہے۔)
پھر فرمایا کہ میں نے حدیقہ میں لکھا ہوا دیکھا ہے کہ مسلمان کیلئے توبہ کرنا فرض ہے۔
پھر فرمایا کہ جب حضرت آدم علیہ السلام دنیا میں آئے تو بارگاہ الٰہی میں عرض کی کہ اے خداوند! تو نے شیطان کو مجھ پر مقرر کیا ہے اور مجھ میں یہ طاقت نہیں کہ اس کو منع کرسکوں۔ مگر تیری توفیق سے تو حکم آیا کہ جب میں تجھے اور تیری اولاد کو محفوظ رکھوں گاتو ہرگز قابو نہیں پاسکے گا۔
پھر حضرت آدم علیہ السلام نے عرض کی کہ اے خداوند تعالیٰ ! زیادہ واضح کر۔
آواز آئی کی اے (حضرت آدم علیہ السلام ) میں نے توبہ فرض کردی جب تک کے خلقت اس جہان میں ہے جب تیرے فرزند توبہ کریں گے تو میں ان کی توبہ قبول کروں گا۔
پھر فرمایا کہ مرنے سے پہلے توبہ کرلو پھر بعد میں افسوس کرنے کا کچھ فائدہ نہ ہوگا۔
پھر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ سے حدیث میں ہے کہ خداوند تعالیٰ نے مغرب کی طرف رات کی توبہ کیلئے ایک دروازہ بنایا ہے جس کی فراخی ۷۰ سال کی راہ کے برابر ہے۔
توبہ کی دو قسمیں
پھر فرمایا کہ توبہ دو قسم کی ہے۔ ایک توبہ نصوحی کہ اس کی بعد انسان گناہ کے نزدیک نہ بھٹکے۔ اور دوسری توبہ یہ ہے کہ دن رات توبہ کرے اور توڑ ڈالے اور ایسی توبہ اچھی نہیں۔
فرمانِ مرشد و عطائے مرشد
پھر فرمایا کہ اے معین الدین! میں نے تیری کمالیت کیلئے ان باتوں کی ترغیب دی ہے پس چاہئے کہ جو کچھ میں نے کہا ہے تو دل و جان سے اسے بجا لائے تاکہ قیامت کو شرمندہ نہ ہوئے۔
پھر فرمایا کہ لائق فرزند وہ ہے کہ کچھ اپنے پیر کی زبان سے سنے تو ہوش کے کانوں سے سنے اور اس میں مشغول ہوجائے اور اسے بجالائے۔
پھر فرمایا کہ لائق فرزند وہ ہے کہ جو کچھ اپنے پیر کی زبان سے سنے اپنے شجرہ میں لکھ لے تا کہ شرمندہ نہ ہوئے۔
جونہی کہ خواجہ ادام اللہ بقاء اس بات پر پہنچے عصا، پاس پڑا تھا اٹھایا اور دعا گو کو عطا فرمایا اور خرقہ اور لکڑی کی پاپوش یعنی کھڑاویں اور مصلیٰ مرحمت کر کے فرمایا کہ یہ تمام چیزیں ہمارے پیروں کی یادگار ہیں جو رسول اللہ ﷺ سے ہم تک پہنچی ہیں۔ ہم نے تجھے دیں۔
مناسب ہے کہ جیسا ہم نے ان چیزوں کو رکھا ہے ویسا ہی تو بھی رکھے اور جس شخص کو تو مرد خدا معلوم کرے یہ یادگار اسے دے دے۔ جب یہ فرماچکے تو بندہ سے بغل گیر ہوکر فرمایا کہ تجھے خدا کو سونپا۔
جونہی کہ یہ فرمایا عالم تحیرّ میں مشغول ہوگئے۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلیٰ ذٰلِکَ۔فقط۔
جونہی کہ یہ فرمایا عالم تحیرّ میں مشغول ہوگئے۔اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلیٰ ذٰلِکَ۔فقط۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں