صفحات

ہفتہ، 13 جولائی، 2013

حضور خواجہ غریب نواز معین الدین حسن چشتی رحمتہ اللہ علیہ کی ابتدائی گفتگو


بِسْمِ اللہ ِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

حضور خواجہ غریب نواز معین الدین حسن چشتی رحمتہ اللہ علیہ کی ابتدائی گفتگو

خدا کا شکر ہے جو پروردگار ہے جہانوں کا اور عاقبت واسطے پرہیزگاروں کے اور درود اس کے رسول محمدﷺ  پر اور اس کی تمام آل و اصحاب پر، خدا تجھے نیک بنا دے۔ تجھے معلوم ہو کہ جو نبیوں کی خبریں اور نشانیاںاور ولیوں کے اسرار اور انوار، عابدوں کے سردار اور عارفوں کے چاند،اہل ایمان کے معزز اور نیکی اور احسان کے وافر شیخ بزرگ خواجہ عثمان ہارونی (خدا انہیں اور ان کے والد کو بخشے) کی زبان سے سننے میں آئے ہیں۔اس رسالے میں جس کا نام انیس الارواح ہے لکھے گئے ہیں۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ مسلمانوں کے دعاگو فقیر حقیر کمترین بندگان معین حسن سنجری رحمتہ اللہ علیہ کو شہر بغداد میں خواجہ جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کی مسجد میں حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمتہ اللہ علیہ کی  قدم بوسی کی دولت نصیب ہوئی اور اس وقت معزز مشائخ بھی خدمت میں حاضر تھے ۔جونہی کے بندے نے سر زمین پر رکھاآپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا دو گانا ادا کر میں نے ادا کیا۔ پھر فرمایا: قبلے کی طرف منہ کر کے بیٹھ ، میں بیٹھ گیا۔ فرمایا کے سورۃ البقرہ پڑھ ۔ میں نے پڑھی۔ پھر فرمایا ۲۱ دفعہ کلمہ سبحان پڑھ۔ میں نے پڑھا۔ بعد میں خود کھڑے ہو کر منہ آسمان کی طرف کیا اور میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کہ میں نے تجھے خدا تک پہنچا دیا۔جونہی یہ فرمایا ، قینچی اپنے دست مبارک میں لے کر معرے سر پر چلائی اور چار تر کی کلاہ اس عقیدت مند کے سر پر رکھی اور خاص گودڑی عنایت فرمائی۔ پھر فرمایا، بیٹھ جا۔ میں بیٹھ گیا۔فرمایا کے ہمارے خانوادے میں آٹھ پہر کا مجاہدہ ہوتا ہے۔آج کی رات اور آج کا دن مجاہدے میں مشغول رہو۔آپ کے ارشاد کے موافق میں نے ایک دن رات گزارے۔ جب دوسرے دن خواجہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے فرمایا، بیٹھ۔ اور ایک ہزار مرتبہ سورئہ اخلاص پڑھ۔ میں نے پڑھی۔ فرمایا: اوپر کی طرف دیکھ، جونہی کے میں نے آسمان کی طرف نگاہ کی، آپ نے فرمایا تجھے کیا دکھائی دیتا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ عرش عظیم تک سب کچھ دکھائی دیتا ہے۔پھر فرمایا زمین کی طرف دیکھ، جب میں نے زمین کی طرف دیکھا،فرمایا کہاں تک تجھے دکھائی دیتا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ حجاب عظمت تک، فرمایا! آنکھ بند کر۔ جب میں نے بند کی فرمایا کھول! میں نے کھولی۔ مجھے دو انگلیاں دکھا کر فرمایا !کہ تجھے کیا دکھائی دیتا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اٹھارہ ہزار قسم کی مخلوقات۔جب میں نے عرض کیا تو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا جا! تیرا کام سنور گیا۔ایک اینٹ پاس پڑی تھی۔آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اس کو الٹ! جب میں نے الٹی تو اس کے نیچے ایک مٹھی سونے کے دینار تھے۔آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا اسے لے جا کر فقیروں کو صدقہ دے۔ جب میں نے صدقہ دیا تو فرمایاکہ چند روز تک ہماری  خدمت میں رہو۔ میں نے عرض کیا کہ بندہ  فرمانبردار ہے۔ پھر خواجہ عثمان ہارونی رحمتہ اللہ علیہ نے خانہ کعبہ کی طرف سفر اختیار کیا اور پہلا سفر دعا گو کا یہی تھا۔

الغرض! ایک شہر میں پہنچ کر ہم نے مقربان خدا کی ایک جماعت دیکھی جن کو اپنے آپ کی ہوش نہ تھی چند روز انہی کے پاس رہے جو اب تک ہوش میں نہ آئے تھے پھر خانہ کعبہ کی زیارت کی۔اس جگہ بھی خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے خدا کے سپرد کیااور خانہ کعبہ کے پر نالے کے نیچے اس درویش کے بارے میں مناجات کی۔ تو آواز آئی کہ ہم نے معین الدین کو قبول کیا۔ جب وہاں سے لوٹ کر ہم نبی کریم ﷺ کی زیارت کے لیے آئے تو فرمایا کے سلام کر! آواز آئی وعلیکم السلام اے سمندر اور جنگل کے مشائخ کے قطب ! جب یہ آواز آئی تو خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا۔ آ! تیرا کام مکمل ہوگیا۔

اس کے بعد ہم بد خشاں میں آئے اور ایک بزرگ سے ملے جو کے خو اجہ جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کے پیش کاروں میں سے تھا اور جس کی عمر سو سال کی تھی۔ وہ از ہد خدا کی یاد میں مشغول تھا لیکن اس کا ایک پائوں نہ تھا۔ اس بارے میں جب اس سے پوچھا گیا تو اس نے فرمایا کہاایک دفعہ کا ذکر ہے کہ نفسانی خواہش کی خاطر میںجھو نپڑی سے باہر قدم رکھنا ہی چاہتا تھا کہ آواز آئی ۔ اے مدعی! یہی تیرا قراار تھا جو تو نے فراموش کر دیا۔

چھری پاس پڑی تھی میں نے اٹھا کر اپنا پائوں کاٹ ڈالا اور باہر پھینک دیا۔ آج چالیس سال کا عرصہ گزراہے کہ میں نے اپنے پائوں کو کاٹا۔ اور حیرانی کے عالم میں مبتلا ہوں۔میں نہیں جانتا کے کل درویشوں میں یہ منہ کس طرح دکھائوں گاپھر ہم وہیں سے واپس آئے اوربخارا میں پہنچے اور وہاں کے بزرگوں کو ایک اور ہی حالت میں پایاجن کا وصف تحریر نہیں ہو سکتا۔۔۔میں خواجہ صاحب کی خدمت (ہمراہی) میں سفر کرتا رہا۔اس کے بعد پھر دس سال تک لوٹااور سونے کا کپڑا سر پر اٹھا کر سفر کرتا رہا۔پھرجب خواجہ صاحب نے واپس آکربغداد میں گوشہ نشینی اختیار کی اور اس درویش کو حکم ہوا کے میںکچھ مدت تک باہر نہین نکلوں گا۔تجھے لازم ہے کے چاشت کے وقت آئو تاکہ میں تجھے فقیر کی ترغیب دوں جو کہ میرے بعد میرے مریدوں اور فرزندوں کے لیے میری یادگار ہے۔ بندہ نے حکم کے بموجب اسی طرح کیا۔ ہر روز میں خواجہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوتا تھااور جو کچھ آپ کی زبان گوہر فشاں سے سنتااس کو لکھ لیتا ۔ یہ سب اٹھائیس مجلسوں پر منقسم ہے۔

۱۔پہلی مجلس ۔ ایمان کے بارے میں
۲۔دوسری مجلس ۔مناجات کے بیان میں
۳۔تیسری مجلس۔شہر کی تباہی کے بیان میں
۴۔ چوتھی مجلس۔عورتوں کے بیان میں فرمانبرداری اور غلام آزاد کرنے کے بیان میں
۵۔ پانچویں مجلس۔ صدقے کے بیان میں
۶۔ چھٹی مجلس۔شراب پینے کے بیان میں
۷۔ ساتویں مجلس۔ مومنوں کو تکلیف دینے کے بیان میں
۸۔ آٹھویں مجلس۔ گالی گلوچ کے بارے میں
۹۔ نویں مجلس۔ کام کرنے اور کمانے کے بیان میں
۱۰۔ دسویں مجلس۔ مصیبت کے بیان میں
۱۱۔ گیارہویں مجلس۔ جانوروں کے مارنے کے بیان میں
۱۲۔ بارہویں مجلس۔ سلام کرنے کے بیان میں
۱۳۔تیرہویں مجلس۔نماز کے کفارے میں
۱۴۔ چودہویں مجلس۔ فاتحہ کے اور اخلاص کے بیان میں
۱۵۔ پندرہویں مجلس۔ بہشت اور اہل بہشت کے بیان میں
۱۶۔ سولہویں مجلس۔ مسجد کی فضیلت کے بیان میں
۱۷۔ ستر ہویں مجلس۔ دنیا کے اکٹھا کرنے کے بیان میں
۱۸۔ اٹھارہویں مجلس۔ چھینک لینے کے بیان میں
۱۹۔ انیسویں مجلس۔ نمازکی بانگ کے بیان میں
۲۰۔ بیسویں مجلس۔ مومن کے بیان میں
۲۱۔ اکیسویں مجلس۔ حاجت روا کرنے کے بیان میں
۲۲۔ بائیسویں مجلس۔ آخری زمانہ کے بیان میں
۲۳۔ تئیسویں مجلس۔ موت کے یاد کرنے کے بیان میں
۲۴۔ چوبیسویں مجلس۔ مسجد میں چراغ بھیجنے کے بیان میں
۲۵۔ پچیسویں مجلس۔ درویشوں کے بیان میں
۲۶۔ چھبیسویں مجلس۔ شلوار کے پائنچے لمبے کرنے کے بیان میں
۲۷۔ ستا ئیسویں مجلس۔عالموں کے بارے میں
۲۸۔ اٹھائیسویں مجلس۔ توبہ کے بیان میں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں