مجلس (۷)
مومنوں کو اذیت دینا
مومن کو تکلیف دینے کے بارے میں گفتگو ہوئی آپ نے زبان مبارک سے فرمایا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺسے روایت کی ہے کہ جس شخص نے مومن کو ستایا ۔سمجھو کہ اس نے مجھ کو ناراض کیااور جس نے مجھے ناراض کیااس نے خداوند تعالیٰ کو ناراض کیا ہر مومن کے سینے میں ۸۰ پردے ہوتے ہیں اور ہر پردہ پر فرشتہ کھڑا ہوتا ہے جو شخص کسی مومن کو ستاتا ہے وہ ایسا ہی کرتا ہے جیسا کہ اس نے ۸۰ فرشتوں کو ناراض کیا ۔
نماز میں کامل حضوری
پھر نماز کے بارے میں گفتگو ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ یہ نماز فریضہ نماز کے بعد ادا کی جاتی ہے اورہمارے مشائخ نے اس نماز کو ادا کیا ہے پس جو شخص ظہر کی نماز سے پہلے چار رکعت نماز ادا کرے اور جو کچھ قرآن سے جانتا ہو پڑھے تو خداوندتعالیٰ اسے بہشت کی خوشخبری دیتا ہے اور اس کو اس وقت ۷۰ ہزار فرشتے ہدئیے لے کر آتے ہیںاور اس نماز کے ادا کرنے والے کے سر پر قربان کرتے ہیں اور جب قبر سے اٹھتا ہے تو ۷۰ پوشاکیں پہنا کر بہشت میں لے جاتے ہیں اور جو شخص اس نماز کو ظہر کے بعد ادا کرے اس میں قرآن مقرر نہیں تو خداوند تعالیٰ ہر رکعت کے بدلے میں اس کی ہزار حاجتیں روا کرتا ہے اور ہزار نیکی اس کیلئے لکھی جاتی ہے اور ایک سال کی عبادت کا ثواب اسے ملتا ہے۔کتاب مجیب میں مشائخ طبقات لکھتے ہیں کہ دانا آدمی اس وقت تک نماز نہیں پڑھتا جب تک نماز میں پوری حضوری حاصل نہ ہو چنانچہ میں نے اپنے پیر خواجہ حاجی رحمتہ اللہ علیہ کے رسالے میں لکھا ہوا دیکھا ہے کہ خواجہ یوسف چشتی رحمتہ اللہ علیہ چاہتے کہ نماز کو شروع کریں۔ ہزار دفعہ تکبیر کہہ کر بیٹھ جاتے جب مکمل حضوری حاصل ہوتی تب نماز شروع کرتے اور جب اِیَّاکَ نعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ (ہم تیری ہی عبادت کریں اور تجھ سے ہی مدد طلب کریں) پر پہنچتے تو دیر تک ٹھہرے رہتے۔
الغرض! ان سے جب اس کا سبب پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ جس وقت مکمل حضوری حاصل ہوتی ہے پھر نماز شروع کرتا ہوں کیونکہ جس نماز میں مشاہدہ نہ ہو اس میں کیا نعمت ہوسکتی ہے۔
پھر فرمایاکہ ایک دفعہ جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ اور خواجہ شبلی رحمتہ اللہ علیہ بغداد سے باہر نکلے اور نماز کا وقت قریب آن پہنچا۔دونوں بزرگ تازہ وضو کرنے میں مشغول ہوئے اور وضو کرنے کے بعد نماز ادا کرنے لگے۔اتنے میں ایک شخص لکڑیوں کا گٹھا سر پر اٹھائے جا رہا تھا ۔ جب اس نے ان کو دیکھا تو فوراً ایندھن کا گٹھا نیچے رکھ کر وضو میں مشغول ہوا ان بزرگوں نے عقل سے معلوم کرلیا کہ یہ مرد خدا رسیدوں میں سے ہے۔سب نے اس کو امام مقرر کیا جب نماز شروع کی تو رکوع اور سجود میں دیر تک رہا۔نماز سے فارغ ہو کر اس سے اس کا سبب پوچھا تو اس نے کہا کہ دیر اس وجہ سے کرتا تھا کہ جب تک ایک تسبیح پڑھ کر لَبَّیْکَ عَبْدِیْ ( میرے بندے !میں حاضر ہوں) نہ سن لیتا ،دوسری تسبیح نہ کرتا۔
خواجہ عمر نفسی رحمتہ اللہ علیہ کا مرتبہ
پھر فرمایا کہ ایک دفعہ میں خانہ کعبہ معظّمہ کی طرف مجاوروں کے درمیا ن کچھ عرصے گوشہ نشین رہا۔ان بزرگوں میں ایک بزرگ تھا جسے خواجہ عمر نفسی کہتے تھے۔ایک دن وہ بزرگ امامت کر رہے تھے فوراً حالت عجیب ہو گئی سر مراقبہ میں لے گئے ۔ کچھ دیر کے بعد جب سر اٹھایاتو آسمان کی طرف دیکھنے لگے اور اہل مجلس کو فرمایا کہ سر اوپر اٹھائو اور دیکھو۔
جونہی کہ یہ فرمایا میں نے دیکھا پھر فرمایا کہ کیا کہتے ہیں اور کیا دیکھتے ہیں ؟ میں نے کہا کہ میں نے دیکھا پہلے آسمان کے فرشتے رحمت کے تھال ہاتھ میں لے کر کھڑے ہیں اور ہونٹوں میں کچھ کہہ رہے ہیں ۔ انہوں نے فرمایا جانتے ہو یہ کیا کہتے ہیں ؟ میں نے کہا یہ کہتے ہیں کہ شیخ صاحب کی بندگی ہماری بندگی کی نسبت بہتر معلوم ہوتی ہے۔
جونہی میں نے یہ کہا اس نے سراٹھایا اور مناجات کی اے خداوند! جو کچھ تیرے بندے سنتے ہیں اہل مجلس بھی اسے سنیں فوراً غیبی فرشتے نے آواز دی، اے عزیزو!یہ فرشتے جو لبوں کو ہلا رہے ہیں ، یہ کہتے ہیں کہ اے خداوند! خواجہ نفسی کے مجاہدہ اور علم کی عزت کے صدقے میں ہمیں بخش دے۔
اس کے بعد فرمایا کہ یہ نعمت ہر مرتبے میں حاصل ہے لیکن مرد وہ ہے کہ اس میں کوشش کرے تاکہ اس مرتبے پر پہنچ جائے ۔
پھر فرمایا اے درویش ! بغداد میں ایک بزرگ تھا جو صاحب کشف و کرامت تھا ۔ اس سے لوگوں نے پوچھا کہ آپ نماز کیوں نہیں ادا کرتے فرمایا کہ اس میں تمہیں کچھ دخل نہیں لیکن جب تک دوست کا چہرہ نہیں دیکھ لیتا میں نہیں پڑھتا۔
پھر فرمایا، یہی سبب ہے کہ جو بعض مشائخ فرماتے ہیں کہ علم، علم ہے جس کو عالم جانتے ہیں اور زہد، زہد ہے جس کو زاہد جانتے ہیں اور یہ بھید ہے جس کو اہل معنی کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔
نمازِ عصر سے قبل چاررکعت نماز کا بہترین عوض
پھر فرمایا کہ جو شخص عصر کی نماز سے پہلے چار رکعت نماز ادا کرے ابو درداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس کوہر رکعت کے بدلے بہشت میں ایک محل ملتا ہے اور ایسا ہے کہ گویا اس نے ساری عمر خداوند تعا لیٰ کی عبادت میں بسر کی ہے اور جو شخص مغرب اور عشاء کے درمیان چار رکعت نماز ادا کرے وہ بہشت میں جاتا ہے اور مصیبتوں سے امن میں ہوتا ہے اور ہر رکعت کے بدلے پیغمبری کا ثواب ملتا ہے اور جو شخص عشاء کے بعد چار رکعت نماز ادا کرے بغیر حساب کے بہشت میں جائے گا اور یہ نماز سوائے خدا کے دوست کے اور کوئی ادا نہیں کرتا۔
پھر فرمایا کہ جو شخص نماز زیادہ کرتا ہے وہ حساب میں بہت زیادہ رہتا ہے اور جو بدی کرتا ہے نیکی زیادہ ہوتی ہے۔
پھر فرمایا کہ مومن کو منافق اور اور لعنتی کے سوا اور کوئی نہیں ستاتا۔
جو نہی کہ خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ان فوائدکو ختم کیا خلقت اور دعا گو واپس چلے آئے۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلیٰ ذٰلِکَ۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں