صفحات

ہفتہ، 13 جولائی، 2013

حضور خواجہ غریب نواز معین الدین حسن چشتی رحمتہ اللہ علیہ کی ابتدائی گفتگو


بِسْمِ اللہ ِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

حضور خواجہ غریب نواز معین الدین حسن چشتی رحمتہ اللہ علیہ کی ابتدائی گفتگو

خدا کا شکر ہے جو پروردگار ہے جہانوں کا اور عاقبت واسطے پرہیزگاروں کے اور درود اس کے رسول محمدﷺ  پر اور اس کی تمام آل و اصحاب پر، خدا تجھے نیک بنا دے۔ تجھے معلوم ہو کہ جو نبیوں کی خبریں اور نشانیاںاور ولیوں کے اسرار اور انوار، عابدوں کے سردار اور عارفوں کے چاند،اہل ایمان کے معزز اور نیکی اور احسان کے وافر شیخ بزرگ خواجہ عثمان ہارونی (خدا انہیں اور ان کے والد کو بخشے) کی زبان سے سننے میں آئے ہیں۔اس رسالے میں جس کا نام انیس الارواح ہے لکھے گئے ہیں۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ مسلمانوں کے دعاگو فقیر حقیر کمترین بندگان معین حسن سنجری رحمتہ اللہ علیہ کو شہر بغداد میں خواجہ جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کی مسجد میں حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمتہ اللہ علیہ کی  قدم بوسی کی دولت نصیب ہوئی اور اس وقت معزز مشائخ بھی خدمت میں حاضر تھے ۔جونہی کے بندے نے سر زمین پر رکھاآپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا دو گانا ادا کر میں نے ادا کیا۔ پھر فرمایا: قبلے کی طرف منہ کر کے بیٹھ ، میں بیٹھ گیا۔ فرمایا کے سورۃ البقرہ پڑھ ۔ میں نے پڑھی۔ پھر فرمایا ۲۱ دفعہ کلمہ سبحان پڑھ۔ میں نے پڑھا۔ بعد میں خود کھڑے ہو کر منہ آسمان کی طرف کیا اور میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کہ میں نے تجھے خدا تک پہنچا دیا۔جونہی یہ فرمایا ، قینچی اپنے دست مبارک میں لے کر معرے سر پر چلائی اور چار تر کی کلاہ اس عقیدت مند کے سر پر رکھی اور خاص گودڑی عنایت فرمائی۔ پھر فرمایا، بیٹھ جا۔ میں بیٹھ گیا۔فرمایا کے ہمارے خانوادے میں آٹھ پہر کا مجاہدہ ہوتا ہے۔آج کی رات اور آج کا دن مجاہدے میں مشغول رہو۔آپ کے ارشاد کے موافق میں نے ایک دن رات گزارے۔ جب دوسرے دن خواجہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے فرمایا، بیٹھ۔ اور ایک ہزار مرتبہ سورئہ اخلاص پڑھ۔ میں نے پڑھی۔ فرمایا: اوپر کی طرف دیکھ، جونہی کے میں نے آسمان کی طرف نگاہ کی، آپ نے فرمایا تجھے کیا دکھائی دیتا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ عرش عظیم تک سب کچھ دکھائی دیتا ہے۔پھر فرمایا زمین کی طرف دیکھ، جب میں نے زمین کی طرف دیکھا،فرمایا کہاں تک تجھے دکھائی دیتا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ حجاب عظمت تک، فرمایا! آنکھ بند کر۔ جب میں نے بند کی فرمایا کھول! میں نے کھولی۔ مجھے دو انگلیاں دکھا کر فرمایا !کہ تجھے کیا دکھائی دیتا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اٹھارہ ہزار قسم کی مخلوقات۔جب میں نے عرض کیا تو آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا جا! تیرا کام سنور گیا۔ایک اینٹ پاس پڑی تھی۔آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اس کو الٹ! جب میں نے الٹی تو اس کے نیچے ایک مٹھی سونے کے دینار تھے۔آپ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا اسے لے جا کر فقیروں کو صدقہ دے۔ جب میں نے صدقہ دیا تو فرمایاکہ چند روز تک ہماری  خدمت میں رہو۔ میں نے عرض کیا کہ بندہ  فرمانبردار ہے۔ پھر خواجہ عثمان ہارونی رحمتہ اللہ علیہ نے خانہ کعبہ کی طرف سفر اختیار کیا اور پہلا سفر دعا گو کا یہی تھا۔

الغرض! ایک شہر میں پہنچ کر ہم نے مقربان خدا کی ایک جماعت دیکھی جن کو اپنے آپ کی ہوش نہ تھی چند روز انہی کے پاس رہے جو اب تک ہوش میں نہ آئے تھے پھر خانہ کعبہ کی زیارت کی۔اس جگہ بھی خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے خدا کے سپرد کیااور خانہ کعبہ کے پر نالے کے نیچے اس درویش کے بارے میں مناجات کی۔ تو آواز آئی کہ ہم نے معین الدین کو قبول کیا۔ جب وہاں سے لوٹ کر ہم نبی کریم ﷺ کی زیارت کے لیے آئے تو فرمایا کے سلام کر! آواز آئی وعلیکم السلام اے سمندر اور جنگل کے مشائخ کے قطب ! جب یہ آواز آئی تو خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا۔ آ! تیرا کام مکمل ہوگیا۔

اس کے بعد ہم بد خشاں میں آئے اور ایک بزرگ سے ملے جو کے خو اجہ جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کے پیش کاروں میں سے تھا اور جس کی عمر سو سال کی تھی۔ وہ از ہد خدا کی یاد میں مشغول تھا لیکن اس کا ایک پائوں نہ تھا۔ اس بارے میں جب اس سے پوچھا گیا تو اس نے فرمایا کہاایک دفعہ کا ذکر ہے کہ نفسانی خواہش کی خاطر میںجھو نپڑی سے باہر قدم رکھنا ہی چاہتا تھا کہ آواز آئی ۔ اے مدعی! یہی تیرا قراار تھا جو تو نے فراموش کر دیا۔

چھری پاس پڑی تھی میں نے اٹھا کر اپنا پائوں کاٹ ڈالا اور باہر پھینک دیا۔ آج چالیس سال کا عرصہ گزراہے کہ میں نے اپنے پائوں کو کاٹا۔ اور حیرانی کے عالم میں مبتلا ہوں۔میں نہیں جانتا کے کل درویشوں میں یہ منہ کس طرح دکھائوں گاپھر ہم وہیں سے واپس آئے اوربخارا میں پہنچے اور وہاں کے بزرگوں کو ایک اور ہی حالت میں پایاجن کا وصف تحریر نہیں ہو سکتا۔۔۔میں خواجہ صاحب کی خدمت (ہمراہی) میں سفر کرتا رہا۔اس کے بعد پھر دس سال تک لوٹااور سونے کا کپڑا سر پر اٹھا کر سفر کرتا رہا۔پھرجب خواجہ صاحب نے واپس آکربغداد میں گوشہ نشینی اختیار کی اور اس درویش کو حکم ہوا کے میںکچھ مدت تک باہر نہین نکلوں گا۔تجھے لازم ہے کے چاشت کے وقت آئو تاکہ میں تجھے فقیر کی ترغیب دوں جو کہ میرے بعد میرے مریدوں اور فرزندوں کے لیے میری یادگار ہے۔ بندہ نے حکم کے بموجب اسی طرح کیا۔ ہر روز میں خواجہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوتا تھااور جو کچھ آپ کی زبان گوہر فشاں سے سنتااس کو لکھ لیتا ۔ یہ سب اٹھائیس مجلسوں پر منقسم ہے۔

۱۔پہلی مجلس ۔ ایمان کے بارے میں
۲۔دوسری مجلس ۔مناجات کے بیان میں
۳۔تیسری مجلس۔شہر کی تباہی کے بیان میں
۴۔ چوتھی مجلس۔عورتوں کے بیان میں فرمانبرداری اور غلام آزاد کرنے کے بیان میں
۵۔ پانچویں مجلس۔ صدقے کے بیان میں
۶۔ چھٹی مجلس۔شراب پینے کے بیان میں
۷۔ ساتویں مجلس۔ مومنوں کو تکلیف دینے کے بیان میں
۸۔ آٹھویں مجلس۔ گالی گلوچ کے بارے میں
۹۔ نویں مجلس۔ کام کرنے اور کمانے کے بیان میں
۱۰۔ دسویں مجلس۔ مصیبت کے بیان میں
۱۱۔ گیارہویں مجلس۔ جانوروں کے مارنے کے بیان میں
۱۲۔ بارہویں مجلس۔ سلام کرنے کے بیان میں
۱۳۔تیرہویں مجلس۔نماز کے کفارے میں
۱۴۔ چودہویں مجلس۔ فاتحہ کے اور اخلاص کے بیان میں
۱۵۔ پندرہویں مجلس۔ بہشت اور اہل بہشت کے بیان میں
۱۶۔ سولہویں مجلس۔ مسجد کی فضیلت کے بیان میں
۱۷۔ ستر ہویں مجلس۔ دنیا کے اکٹھا کرنے کے بیان میں
۱۸۔ اٹھارہویں مجلس۔ چھینک لینے کے بیان میں
۱۹۔ انیسویں مجلس۔ نمازکی بانگ کے بیان میں
۲۰۔ بیسویں مجلس۔ مومن کے بیان میں
۲۱۔ اکیسویں مجلس۔ حاجت روا کرنے کے بیان میں
۲۲۔ بائیسویں مجلس۔ آخری زمانہ کے بیان میں
۲۳۔ تئیسویں مجلس۔ موت کے یاد کرنے کے بیان میں
۲۴۔ چوبیسویں مجلس۔ مسجد میں چراغ بھیجنے کے بیان میں
۲۵۔ پچیسویں مجلس۔ درویشوں کے بیان میں
۲۶۔ چھبیسویں مجلس۔ شلوار کے پائنچے لمبے کرنے کے بیان میں
۲۷۔ ستا ئیسویں مجلس۔عالموں کے بارے میں
۲۸۔ اٹھائیسویں مجلس۔ توبہ کے بیان میں

ایمان کی حقیقت

مجلس  (۱)

ایمان کی حقیقت

مجلس اول میں ایمان کا ذکر ہوا۔آپ رحمتہ اللہ علیہ نے زبان مبارک سے فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیںکہ پیغمبر خدا ﷺ نے فرمایا کہ ایمان بر ہنہ ہے اور اس کا لباس پر ہیز گاری ہے اور اس کا سرہانہ فقر ہے اور اس کی دوا علم ہے اور اس بات کی شہادت لا الہ الااللہ محمدرسول اللہ پرایمان ہے اور آپ نے کہا اے مسلمانو! ایمان کم و بیش نہیں ہو سکتااور جو  شخص انکار کرتا ہے وہ اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے۔

پھر فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کے لیے حکم آیاکہ جا ئو! کا فروں سے جنگ کرو۔ اس وقت تک کہ کہیں لا الہ الااللہ محمدرسول اللہ (نہیں ہے کو ئی معبود مگر اللہ اور محمد ﷺ خدا  کے بھیجے ہوئے ہیں) جو نبی و رسول خدا ﷺنے کافروں سے جنگ کی۔ انہوں نے گواہی دی کے خدا ایک ہے۔ پھر نماز کا حکم دیا انہوں نے قبول کیا ۔ پھر روزہ ، حج اور زکوٰ ۃ کا حکم ہوا۔ یہ بھی انہوں نے قبول کئے اور خدائے بزرگ اور بلند پر ایمان لا ئے۔

پھر فرمایا کہ یہ سب باتیں ایمان کا بار بار یاد تازہ کرنا ہے لیکن روزے اور نماز سے گھٹتا بڑھتا نہیں۔ اس واسطے کے جس نے نماز کے صرف فرضوں کو ہی ادا کیا ہواور ان میں کسی قسم کا نقصان نہ کیا ہو۔ خدا تعالیٰ اس کے لیے حساب آسان کر دیتا ہے اور اگر فرضوں میں کسی قسم کا نقصان کیا ہوتوخدا وند تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ دیکھو۔ اس نے کوئی دیدہ و دانستہ نقصان نہیں کیا اور عبادت کی ہے تو فرضوں کے عوض اس کو شمار کرلو۔ اور اگر اس نے فرض بھی پورے ادا نہ کئے ہوں اور نہ ہی کوئی فاضلہ عبادت کی ہوتو وہ دوزخ کے لا ئق ہوتا ہے۔ بشرطیکہ خدا کی رحمت یا رسول اللہ ﷺ کی شفاعت نہ ہولیکن اہل شرع کا قول ہے کہ جو شخص فرض کا منکر ہے، وہ کافر ہے لیکن ایمان کی اصلیت میں کمی بیشی نہیں ہوتی۔

پھر فرمایا کہ جو شخص نماز ادا نہیں کرتا۔ وہ اس حدیث من ترک الصلوٰۃ متعمدًا فقد کفر مستوجب القتل عند الشافعی(جس شخص نے اراداتاًنماز ترک کی۔ پس وہ کافر ہوا یعنی امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک قتل کرنے کے قابل ہے) کے بموجب کافر ہوتا ہے۔


روحوں کی چار قسمیں

پھر فرمایا کہ خواجہ جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کے عمدہ میں،میں نے لکھا ہوا دیکھا ہے کہ خواجہ یوسف چشتی رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ جس وقت اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ( کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں) کی آواز آئی تو اس وقت تمام مسلمانوں اور کافروں کی روحیںایک جگہ تھیں۔ آواز کے آتے ہی ان کی چار قسمیں ہو گئیں۔

پہلی قسم کی روحوں نے جب آواز سنی اسی وقت سجدہ میں گر پڑھیںاوردل اور زبان سے کہا قَالُوابَلیٰ(انہوں نے کہا ۔ ہاں)

دوسری قسم کی روحوں نے بھی سجدہ کیا اور زبان سے کہا قَالُوابَلیٰلیکن دل سے نہ کہا۔

تیسری قسم کی روحوں نے دل سے کہا۔اور چوتھی قسم کی روحوں نے نہ دل سے کہا اور نہ ہی زبان سے کہا۔

پھر خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی تفصیل یوں فرما ئی کہ جنہوں نے سجدہ کیا اور دل اور زبان سے اقرار کیا  وہ اولیاء نبی اور مومن تھے۔ اور جنہوں نے زبان سے کہا اور دل سے نہ کہا وہ ان مسلمانوں کا گروہ تھا جو پہلے مسلمان ہوتے ہیں اور مرتے دفعہ بے ایمان ہو کر دنیا سے جاتے ہیں اور تیسری قسم جنہوں نے زبان سے نہ کہا لیکن دل سے کہا وہ ایسے کافر تھے جو پہلے کافر ہوتے ہیں بعد میں مسلمان ہو جاتے ہیں  لیکن چوتھی قسم جنہوں نے نہ دل سے کہا اور نہ زبان سے، وہ کافر تھے جو پہلے ہی کافر ہوتے ہیں اور بعد میں بھی کافر ہی دنیا سے گزر جاتے ہیں۔

جب ان فوائد کو  خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ختم کیا ۔ تو آپ یاد الٰہی میں مشغول ہو گئے اور دعا گو واپس چلا آیا۔

 اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلیٰ ذٰلِکَ۔

منا جا تِ آدم علیہ السلام

مجلس (۲)

منا جا تِ آدم علیہ السلام

مجلس دوم میں حضرت آدم علیہ السلام کی مناجات کے بارے میں گفتگو ہوئی۔خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ میں نے خواجہ یوسف چشتی  رحمتہ اللہ علیہ کی زبانی سنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ابواللیث سمر قندی کی فقہ میں لکھا دیکھا ہے کہ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابن علی طالب روایت کرتے ہیں فَتَلٰقّٰی اٰدَمُ مِنْ رَّبِہ کَلِمَاتٍ (پس آدم نے اپنے پروردگار سے سیکھ لیں کچھ باتیں)یہ وہ وقت تھا جب حضرت آدم علیہ السلام بہشت سے بھا گے تھے۔ خدا وند تعا لیٰ نے فرمایا۔ اے آدم ! کیا تو مجھ سے بھاگتا ہے۔ عرض کی کہ نہیں میرے پروردگار ! بلکہ مجھے اس رسوائی کے سبب تجھ سے شرم آتی ہے۔


سورج اور چاند گرہن

پھر سورج گرہن اور چاند گرہن کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے زبان مبارک سے فرمایاکہ ابن عباس روایت کرتے ہیںکہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں چاند گرہن واقع ہواجب پیغمبر خدا ﷺ سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب دنیا کے بندوں کے گناہ بہت ہو جاتے ہیںاور بہت گستاخی کرتے ہیں تب حکم ہوتا ہے کہ سورج گرہن یا چاند گرہن واقع ہواور ان کے چہرے سیاہ کئے جاتے ہیںتا کہ خلقت عبرت پکڑے۔ پھر فرمایا کہ جب چاندگرہن محرم کے مہینے میں واقع ہوتو اس سال کشت و خون اور فساد برپا ہوتے ہیںاور اگر ماہ ربیع الاول میں ہو تو اس سال قحط اور موت زیادہ ہوگی اور مینہ اور ہوا زیادہ ہوگی۔ اور اگر ماہ ربیع الآخر میں واقع ہو تو بزرگوں کی تبدیلی اور ملک میں فتور واقع ہوگا۔اور جب جمادی الاول میں واقع ہو تو بجلی اور بارش بکثرت ہوگی اور نا گہانی موتیں کثرت سے واقع ہوںگی۔اگر جمادی الآخر میں واقع ہو تو اس سال فصلیں عمدہ ہوں گی اور نرخ ارزاں ہوگا اور لوگ عیش و عشرت میں بسر کریں گے۔اور اگر ماہ رجب میں واقع ہو اور مہینہ کا شروع اور جمعہ کا روز ہوتو اس سال بھوک اور مصیبتیں بہت نازل ہوں گی اور آسمان پر سیاہی نازل ہوگی۔ اگر ماہ شعبان میں واقع ہو تو اس سال خلقت کے درمیان صلح اور آرام ہوگا اور اگر ماہ رمضان میں واقع ہو اور مہینہ کا شروع اور جمعہ کا روز ہوتو اس سال قحط اور مصیبت نازل ہوگی اور آسمان سے بڑی سخت آواز آئے گی جس سے خلقت بیدار ہوجائے گی اور کھڑے ہوئے آدمی منہ کے بل گر پڑیں گے۔اگر ماہ شوال میں واقع ہو تو اس سال مردوں کو بہت سی بیماریاں لا حق ہو ں گی ۔اگر ماہ ذوالحجہ میں واقع ہو تو اس سال فراخی ہوگی اور اس سال حاجیوں کی راہ منقطع ہو گی۔اور اگر ماہ محرم میں واقع ہو تو جاننا چاہئے کہ سارا سال فساد برپا ہوں گے اور ایک دوسرے کے عیب بیان کریں گے اور دنیا کو چھوڑیں گے اور آخرت ویران کریں گے اور قول و قرار میں مومن نہیں رہیں گے وہ منافق دولت مند کو بزرگ خیال کریں گیاور درویشوں کو ذلیل خیال کریں گے۔ اس وقت خداوند تعالیٰ ان پر مصیبتیں نازل کرے گاتا کہ ان کی عیش تلخ ہوجائے پھر فرمایا جب ایسی حالت ہو تو مصیبتوں کے منتظر رہنا چاہئے۔

جب ان فوائد کو  خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ختم کیا ۔ تو آپ یاد الٰہی میں مشغول ہو گئے اور دعا گو واپس چلا آیا۔

 اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلیٰ ذٰلِکَ۔

شہروں کی تبا ہی

مجلس (۳)

شہروں کی تبا ہی

مجلس سوم میں شہروں کی تبا ہی کے بارے میں گفتگو ہوئی۔فرمایا کہ آخری زمانے میں شہر بسبب گناہوں کی شامت کے برباد ہو جائیں گے۔ چنانچہ میں نے خواجہ یوسف چشتی رحمتہ اللہ علیہ کی زبا نی سنا ہے کہ ایک دفعہ میں سمر قند کی طرف جا رہا تھا تو میں نے خواجہ یحییٰ سمر قندی  رحمتہ اللہ علیہ کی زبانی سنا کہ امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت فرمائی کہ جب یہ آیت نازل ہوئی:

وَاِنْ مِّنْ قَرْیَۃِ اِنْ نَحْنُ مُھْلِکُوْھَا قَبْلَ یَوْمَ  ا لْقِیٰمَۃِ اَوْ مُعَذِّبُوْھَاعَذَابًا شَدِیْدًا کَانَ ذَلِکَ فِی الْکِتٰبِ مَسْطُوْرًا
(کوئی شہر ایسا نہیں جس پر قیامت سے پہلے ہم مصیبت اور عذاب اورہلاکت نازل نہ کریں اور وہ شہر ویران نہ ہو)


آثارِ قیامت 

تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایاکہ چونکہ آخری زمانے میں گناہ کثرت سے ہونگے مکے کو حبشی لوگ ویران کریں گے اور مدینہ منورہ قحط سے برباد ہو جائے گا اور بھوک کے مارے خلقت مر جائے گی اور بصرہ ، عراق اور مشہد شرا بخوروں کی شامت اعمال کے سبب خراب ہوں گے اور اس سال مصیبتیں بہت نازل ہو نگی اور عور توں کے بد اعمال سے بھی خراب ہوں گے اور ملک شام بادشاہ کے ظلم سے برباد ہوگا اور مکڑی آسمان سے اترے گی اور روم کثرت لواطت کے سبب خراب ہوگا اور آسمان سے ہوا چلے گی جس سے تمام آدمی سو جائیں گے اور ہلاک ہو جائیں گے اور خراسان اور بلخ تاجروں کی خیانت کے باعث ویران ہو ں گے اور مسلمان اس کی شامت سے مردار ہو جائیں گے۔

اس کے بعد فرمایا کہ میں نے خواجہ مودود چشتی رحمتہ اللہ علیہ کی زبانی سنا ہے کہ خوارزم اور چند شہر جو اس کے گردونواح میں واقع ہیں وہ راگ و رنگ اور منکرات کے با عث خراب ہو ں گے اور ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے اور خود بھی ہلاک ہو جائیں گے لیکن سیوستان سخت مصیبتوں ،تاریکیوں اور زلزلوں سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جا ئے گا اور جس زمین میں رہتے ہو ں گے نیست و نا بود ہو جا ئے گی لیکن مصر اور دوسرے شہروں کے خرابی کی یہ وجہ ہو گی کہ آخری زمانے میں عورتوں کو قتل کریں گے اور کہیں گے یہ فاطمہ ہے ۔ خاک ان کہ منہ میں ۔ پس حق تعا لیٰ ان کو زمین میں غرق کرے گا اور سندہ اور ہندوستان بھی ویران ہو جائیں گے پھر فرمایا کہ زنا اور شراب خوری کے سبب ویران ہو ں گے پھر فرمایا کہ مشرق یا مغرب میں جو شہر ہے سب کے فسادوں کی بلا ہند میں پڑے گی۔ 

پھر فرمایا کہ جب شہر اس طرح پر خراب ہوں گے تو امام مہدی ظاہر ہوں گے اور مشرق سے مغرب تک ان کے عدل کی دھوم مچ جا ئے گی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نیچے اتریں گے اور ان دونوں کو مسلمانی از حد عزیز ہو گی اور اس وقت دن بہت چھوٹے ہوں گے چنانچہ ایک دن میں ایک نماز ادا ہو گی۔
پھر فرمایا کہ میں نے خواجہ حاجی رحمتہ اللہ علیہ کی زبانی سنا ہے کہ ان کے عہد میں سال مہینوں کی طرح اور مہینے ہفتوں کی طرح اور ہفتے دنوں کی طرح ہوں گے اور دن ایک وقت میں گزر جائیں گے ۔ خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے آبدیدہ ہو کر فرمایا کہ اے درویش! آدمی کو چاہیے کہ انہی سالوں اور مہینوں کو وہ سال اور مہینے خیال کرنا چاہیے ۔ رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد کتیا کے بچے پیدا ہونگے نہ کہ آدمی کے۔اب خود لوگ قیاس کریں کیونکہ زمانہ دراز گزر چکا ہے۔

جو نہی کہ خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ان فوائد کوختم کیا ۔ تو آپ یاد الٰہی میں مشغول ہو گئے اور دعا گو واپس چلا آیا۔ 

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلیٰ ذٰلِکَ(اس کیلئے خدا کا شکر ہے)۔

عورتوں کی فرمانبرداری

مجلس (۴)

عورتوں کی فرمانبرداری

مجلس چہارم: عورتوں کی فرمانبرداری کے بارے میں گفتگو ہو رہی تھی۔آپ نے فرمایا امیرالمومنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایاکہ میں نے سرورکائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی زبان مبارک سے سنا کہ جو عورت اپنے خاوند کی فرمانبرداری کرتی ہے وہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعا لیٰ عنہا کے ہمراہ بہشت میں داخل ہو گی ۔ اس کے بعد فرمایا کہ جس عورت کا خاوند بستر پر طلب کرے اور وہ نہ آئے تو اس کی تمام کی ہوئی نیکیاں دور ہوجاتی ہیں اور وہ ایسی صاف رہ جاتی ہے جیسے سانپ کینچلی اتار کر اور اس کے شوہر کی طرف سے اس کے ذمے اس قدر بدیاں ہو جاتی ہیںجتنی کہ جنگل کی ریت اور اگر وہ عورت مرجائے اور اس کا شوہر راضی نہ ہو تو اس کے لیے دوذخ کے ساتوں دروازے کھل جاتے ہیں اور اگر عورت سے خاوند راضی ہو اور وہ عورت وفات پا جائے تو اس کے لیے بہشت کے ۷۰ درجے قائم ہو تے ہیں۔

پھر فرمایا کہ میں نے تنبیہ میں لکھا دیکھا ہے کہ جو عورت خاوند سے تر شروئی سے پیش آئے اور اس کی طرف نہ دیکھے تو اس کے اعمال نامے میں آسمان کے ستاروں کے برابر گناہ لکھے جاتے ہیں پھر فرمایا کہ اگر خاوند کی ناک کے ایک نتھنے سے خون جاری ہو اور دوسرے سے ریحہ (پیپ) اور عورت اسے زبان سے صاف کرے تو بھی خاوند کا حق ادا نہیں ہوتا۔ پس اے درویش! اگر خدا کے سوا کسی کو سجدہ کرنا جا ئز ہوتا تو نبی کریم ﷺ حکم فرماتے ہیں کہ عورتیں اپنے خاوندوں کو سجدہ کریں۔


غلام آزاد کرنے کی جزا

پھر غلام آزاد کرنے کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی۔ اسی اثنا میں ایک درویش آیا اور آداب بجا لا کر جو بردہ (غلام) اس کے ہمراہ تھا خواجہ صاحب کے رو برو آزاد کردیا۔ خواجہ صاحب نے دعائے خیر کی پھر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کے جو شخص بردہ آزاد کرتا ہے اس کے بدن کی ہر رگ کے بدلے اس شخص کو پیغمبری کا ثواب ملتا ہے اور دنیا سے باہر جانے سے پیشتر ہی اس کے چھوٹے بڑے گناہوں کو خدا وند تعالیٰ بخش دیتا ہے اور اس کے بدن پر جتنے بال ہیں ہر بال کے بدلے ایک شہر بہشت میں اس کے نام بناتے ہیں اور اس کی ہر رگ کے بدلے اسے نور دیتے ہیں اور اس پر پل صراط آسان کرتے ہیں اور آسمان پر اس کا نام اولیاء میں شمار کرتے ہیں۔


جناب صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا غلام آزاد کرنا

پھر فرمایا کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے اور اصحاب بھی آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے۔امیر المومنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اٹھے اور عرض کی اے رسول اللہ ﷺ میرے پاس چالیس بردے ہیں ۔ میں نے بیس بردے خدا تعالیٰ کی رضا مندی کے لیے آزاد کئے۔ نبی کریم ﷺ نے دعائے خیر کی اتنے میں جبرائیل امین علیہ السلام نازل ہوئے اور کہا اے رسول اللہ ﷺ حکم الہٰی یوں ہے کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے جسم پر جتنے بال ہیں آپ کی امت میں سے اسی قدر آدمیوں کو ہم نے دوزخ سے نجات دی اور اسی قدر ثواب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حاصل کیا۔


جناب عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا غلام آزاد کرنا

اس کے بعد فرمایا کہ امیر المومنین عمر اٹھ کر آداب بجا لائے اور عرض کی کہ اے رسول اللہ ﷺ میرے پاس تیس بردے ہیں ۔ ان میں سے پندرہ میں نے خدااور خدا کی رضا کے لیے آزاد کئے۔ نبی کریم ﷺ نے دعائے خیر کی اتنے میں جبرائیل امین علیہ السلام پھر اترے اور کہا اے رسول اللہ ﷺ فرمان الہٰی اس طرح پر ہے کہ جس قدر رگیں ان بردوں کے جسم میں ہیں ان سے پچا س گنا آدمی آپ ﷺکی امت کے میں نے دوزخ کی آگ سے آزاد کئے اور اسی قدر ثواب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو عنایت ہوا۔


جناب عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا غلام آزاد کرنا

یہ اس کے بعد فرمایا کہ امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اٹھ کر آداب بجا لائے اور عرض کی کہ میرے پاس بردے بہت ہیں ۔ ان میں سے سو بردے خدا کی رضا کے لیے آزاد کئے۔ نبی کریم ﷺ نے دعائے خیر کی اتنے میں جبرائیل امین علیہ السلام نے حکم الہٰی اس طرح بیان کیا کہ اے رسول اللہ ﷺ جتنی رگیں ان بردوں کے بدنوں میں ہیں ان سے سو گناآدمی آپ ﷺکی امت کے بخشے گئے اور ثواب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو عنایت ہوا۔


جناب علی مرتضٰی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نذرانۂ جاں

اس کے بعد فرمایا کہ ا میرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم اٹھے اور آداب بجا لا کر عرض کی کہ اے رسول اللہ ﷺ میرے پاس دنیا کی کوئی چیز نہیں میرے پاس جان ہے سو خدا پر میں نے قربان کی۔ یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ جبرائیل امین علیہ السلام حاضرہوئے اور کہا اے رسول اللہ ﷺ فرمان الہٰی یہ ہے کہ ہمارے علی رضی اللہ عنہ کے پاس دنیا کی کوئی چیز نہیں ، ہم نے دنیا میں اٹھارہ ہزار عالم پیدا کئے ہیں۔تیری اور علی رضی اللہ عنہ کی رضا پر ہم نے ہر عالم میں سے دس ہزار کو دوزخ کی آگ سے نجات بخشی۔

پھر فرمایا کہ خواجہ یوسف چشتی رحمتہ اللہ علیہ کا طریق تھا کہ جو بزرگ خواجہ صاحب کی خدمت کے لئے آتا ایک بردہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا اور خواجہ صاحب اس کو قبول کر کے فرماتے کہ تو اس کو آزاد کر شاید کہ قیامت کے دن میں اور تو اسی کی بدولت دوزخ کی آگ سے بچ جائیں۔


اہل عشق کا مقام 

پھر فرمایا کہ جس روز خواجہ ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ نے توبہ کی تو جس قدر آپ کے پاس بردے تھے اپنے سامنے سب کو آزاد کیا۔اور حج کے لیے روانہ ہوئے اور پیادہ ہر قدم پر دو گانہ ادا کرتے ہوئے چودہ سال کے عرصے میں خانہ کعبہ پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ کعبہ اپنی جگہ پر نہیں ۔ آپ کو حیرت ہوئی آواز آئی کہ اے ابراہیم صبر کر ، کعبہ ایک بڑھیا کی زیارت کے لیے گیا ہوا ہے ۔ ابھی آجا ئے گا جو نہی کہ خواجہ صاحب نے یہ بات سنی آپ پہلے کی نسبت زیادہ متحیر ہوئے اور کہا کہ وہ بڑھیا کون ہے ؟ چنانچہ ان کو دیکھنے کے لیے روانہ ہوئے کہ جا کر دیکھوں تو سہی جو نہی کہ جنگل میں پہنچے رابعہ بصری کو دیکھا کہ بیٹھی ہو ئی ہیں اور کعبہ اس کے گرد طواف کر رہا ہے  ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ کے دل میں غیرت آئی۔ چنانچہ انہوں نے رابعہ بصری رحمتہ اللہ علیہ کو زور سے آواز دی کہ تو نے یہ شور برپا کر رکھا ہے انہوں نے کہا کہ میں نے یہ شور برپا نہیں کیا بلکہ تو نے کیا ہے کہ چودہ سال کے بعد تو خانہ کعبہ پہنچا اور دیدار نصیب نہیں ہوا کیونکہ تیری خواہش خانہ کعبہ کی زیارت سے تھی ۔ 

اور میری غرض خانہ کعبہ کے مالک کی تھی ۔ پھر فرمایا کہ اے درویش! وہ مردہ ہے کے خدا وند تعا لیٰ کے سوا کسی چیز کو مد نظر رکھے اور دنیا اور آخرت میں مبتلا نہ ہو اور جو کچھ اس کے پاس ہے اس کی طرف نگاہ نہ کرے ۔ جب انسان اس مرتبے پر پہنچ جاتا ہے تو جو کچھ اس کے دوست کی ملکیت ہوتا ہے وہ اسی کی ہو جاتی ہے ۔ کعبہ اس کے گرد طواف کرتا ہے اور اس کا دامن نہیں چھوڑتاپس اے درویش ! اسی مقام پر غور کر کہ جب سید عالم ﷺ خدا وند تعا لیٰ کے بن گئے تو خدا وند تعا لیٰ سید عالم ﷺ کا بن گیا اور درمیان میں کو ئی چیز حائل نہ رہی تو آواز آئی کہ کہو لا الہ الااللہ محمدرسول اللہ جو نہی کہ یہ معاملہ جو کچھ آسمان سے لیکر زمین تک اور دنیا اور آخرت میں ہے سب نے دیکھا تو فرشتے انسان اورجن وغیرہ سب نے اپنے آپ کو طفیلی خیال کر کے نبی کریم ﷺ کا دامن پکڑااور عرض کی کہ اے رسول اللہ ﷺ قیامت کے دن ہمیں نہ چھوڑ دینا اور اپنی شفاعت سے محروم نہ رکھنا۔


آتشِ عشق کے سوختہ جاں

پھر فرمایا اے درویش! تجھے یاد رہے کہ کب آدمی دوست کا بن جاتا ہے تو سب چیزیں اس کی بن جاتی ہیں لیکن مرد کو چاہئے کہ تمام موجادات سے فارغ ہو کر دوست کی طرف مشغول رہے تاکہ جا کچھ دوست کا ہے اس کی پیروی کرے۔

پھر فرمایا اے درویش! ایک دفعہ میں سیوستان کی طرف سفر میں تھا توسیوستان میں ایک غار کے اندر ایک درویش کو دیکھا جسے شیخ سیوستانی کہا کرتے تھے لیکن وہ بو ڑھا اس قدر بزرگی اور ہیبت رکھتا تھا کہ میں نے آج تک کسی کو ایسا نہیں دیکھا ۔ وہ عالم تحیر میں مشغول تھا جب میں اس کے پاس گیا تو میں نے سر جھکا لیا ۔ اس بزرگ نے فرمایا سر اٹھا ۔ میں نے سر اٹھا یا تو فرمایا اے درویش! آج قریباً سال کا عرصہ گزرا ہے کہ سوائے خدا کے کسی اور شے میں مشغول نہیں ہوا لیکن تیرے ساتھ جو میں مشغول ہوتا ہوں تو یہ حکم الٰہی ہے سن ! اگر تو محبت کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کے سوا کسی اور چیز میں مشغول نہ ہونا اور کسی سے میل جول نہ کرنا تاکہ تو جلایا نہ جا ئے کیونکہ غیرت کی آگ عاشقوں کے ارد گرد رہتی ہے جب عاشق نے معشوق کے سوا کسی چیز کا خیال کیا اسی دم غیرت کی آگ نے اسے جلایا۔ لیکن تجھے یاد رہے کہ محبت کی راہ میں جو درخت ہیں اس کی دو شاخیں ہیں ۔ ایک کو نرگس وصال کہتے ہیں اور دوسرے کو نرگس فراق۔ پس جو شخص سب سے فارغ ہو کر دوست میں مشغول ہو وہ دوست کے وصال کی دولت سے مشرف ہوتا ہے اور جو اس کے سوا کسی اور چیز کی رغبت رکھتا ہے وہ فراق میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ جونہی کہ اس بزرگ نے اس بات کو ختم کیا ۔فرمایا تو جا! تو نے ہمیں کام سے رکھا ۔ اتنا کہہ کر وہ یاد الٰہی میں مشغول ہوگئیاور دعا گو واپس چلا آیا 

پھر فرمایا اے درویش! ہم بردہ آزاد کرنے کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جا شخص بردہ آزاد کرتا ہے وہ دنیا سے باہر جانے سے پیشتر ہی اپنا مقام بہشت میں دیکھ لیتا ہے اور جان کنی کے وقت فرشتہ اسے بہشت کی خوشخبری دیتا ہے پھر فرمایا کہ میں نے خواجہ محمد چشتی رحمتہ اللہ علیہ کی زبانی سنا ہے کہ جا شخص غلام آزاد کرتا ہے وہ دنیا رحلت کرنے سے پیشتر ہی بہشت کی شراب پیتا ہے اور جان کنی کا عذاب اس پر سہل ہوجاتا ہے اور قیامت کے دن عرش کے سایہ تلے ہوگا اور بغیر حساب کے بہشت میں داخل ہوگا۔

جو نہی کہ خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ان فوائد کوختم کیا ۔ تو آپ یاد الٰہی میں مشغول ہو گئے اور دعا گو واپس چلا آیا۔

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلیٰ ذٰلِکَ(اس کیلئے خدا کا شکر ہے)۔




صدقے کی فضیلت اور فوائد

مجلس  (۵)

صدقے کی فضیلت اور فوائد

صدقہ دینے کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی۔ آپ نے زبان مبارک سے فرمایا کہ خواجہ صاحب یو سف چشتی رحمتہ اللہ علیہ کے فتا ویٰ میں ۔ میں نے لکھا دیکھا ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں عرض کی کہ سب عملوں سے اچھا عمل کونسا ہے تو آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ صدقہ دینا دوزخ کی آگ کے لیے پردہ ہوتا ہے پھر فرمایا کہ ایک دفعہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ صدقے کہ بعد دوسرے درجے پر کونسا نیک عمل ہے؟آپ ﷺ نے فرمایا کہ قرآن کا پڑھنا پھر فرمایا کہ عبداللہ بن مبارک نے کہا ہے کہ میں نے ستر سال تک اپنے نفس کے ساتھ مجاہدہ کیا ہے مجھے معلوم ہوا کہ میں نے مصیبتیں بہت اٹھائی ہیں لیکن بارگاہ الٰہی کا دروازہ نہیں کھلا جو نہی کہ میں نے اپنی طرف خیال کیا جو مال میری ملکیت میں تھا سب راہ خدا میں صرف کیا تو دوست یعنی خدا میرا بن گیا اور جو دوست کی ملکیت تھی سب میری ملکیت ہوگئی۔

پھر فرمایا کہ ابراہیم ادھم رحمتہ اللہ علیہ نے آثار اولیاء میں لکھا ہے کہ ایک درم صدقہ دینا ایک سال کی ایسی عبادت سے بہتر ہے جس میں دن کو روزہ رکھا جائے اور رات کو کھڑے ہو کر عبادت کی جائے پھر فرمایا کہ جس روز امیرالمومنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ۸۰ ہزار دینار خدا کی راہ میں خرچ کئے اور گودڑی پہن کر سید عالم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آنحضرت ﷺ نے پوچھا کہ اے ابو بکر رضی اللہ عنہ ! دنیاوی ذخیرے میں سے کچھ باقی رکھا ہے ؟ تو آپ نے عرض کی اے رسول اللہ ﷺ ! خدا اور رسول یعنی خدا اور خدا کا رسول ﷺ کافی ہے۔جونہی کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہ کہا فوراً جبرائیل علیہ السلام مع ستر ہزار فرشتوں کے گودڑی پہنے ہوئے نازل ہوئے اور سلام کے بعد عرض کی اے رسول اللہ ﷺ ! حکمِ الٰہی اس طرح پر ہے کہ آج حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ہماری راہ میں اپنا مال خرچ کیا ہے ان کو ہمارا سلام دو اور کہو !کہ تو نے وہ کام کیا ہے جس میں ہماری رضا تھی اور ہم وہ کام کرتے ہیں جس میں تیری رضا ہے۔ اور محمد ﷺ اور تمام فرشتوں کو حکم ہوا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی موافقت کی وجہ سے سب گودڑی پہنیں کیونکہ قیامت کے دن گودڑی پہنے والوں کو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی گودڑی کے صدقے میں ہم بخشیں گے۔ 

پھر فرمایا کہ ایک دفعہ امیرالمومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اے رسول اللہ ﷺ ! قرآن شریف پڑھنا بہتر ہے یا صدقہ دینا؟ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ صدقہ دینا بہتر ہے کیونکہ صدقہ دوزخ کی آگ سے بچاتا ہے۔

پھر فرمایا کہ ایک دفعہ ایک یہودی راستے میں کھڑا ایک کتے کو روٹی کا ٹکڑا کھلا رہا تھا ۔ اتفاق سے خواجہ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کا بھی ادھر سے گزر ہوا۔ آپ نے اس سے پوچھا کہ اپنا ہے یا بیگانہ ؟ اس نے کہا کہ مرد بیگانہ کا ہے خواجہ صاحب نے کہا جب یہ حالت ہے تو تو کیا کرتا ہے کیونکہ یہ قبول نہیں ۔ اس نے کہا کہ اگر یہ قبول نہیں تو تا ہم وہ (خدا) تو دیکھتا ہے کہ میں کیا کر رہا ہوں۔

الغرض! مدت کے بعد خواجہ رحمتہ اللہ علیہ کعبہ معظًمہ میں پہنچے تو پر نالے کے نیچے سے آواز آئی کہ رَبًِی (یعنی (اے) میرے ربً) ہھر غیب سے آواز آئی کہ لَبًَیْکَ عَبْدِیْ ( میرے بندے! میں حاضر ہوں) خواجہ صاحب حیران ہو ئے کہ چل کر دیکھوں تو سہی۔ وہ کیسا نیک بخت بندہ ہے جونہی کہ آپ وہاں پہنچے کیا دیکھتے ہیں کہ ایک شخص سجدے میں سر رکھ کر  رَبًِی ّ(اے میرے رب) پکارتا ہے آپ تھوڑی دیر وہاں ٹھرے۔اتنے میں اس شخص نے سر اٹھا یا اور خواجہ صاحب سے کہا : کیا تو مجھے پہچانتا ہے؟ خواجہ صاحب نے کہا نہیں ۔ اس نے کہا میں وہی آدمی ہوں جسے تو کہتا تھا کہ میری نیکی قبول نہیں ۔ دیکھا ! میری چیز کو اس نے قبول کیا اور مجھے بلالیا۔

پھر فرمایا کہ آثار اولیاء میں، میں نے لکھا دیکھا ہے کہ صدقہ نوری ہے اور حوروں کی خوبصورتی کا باعث اور صدقہ ہزار رکعت نماز سے بہتر ہے۔پھر فرمایا کہ جب قیامت کا دن ہوگاتو صدقہ دینے والوں کا ایک گروہ عرش کے نیچے مقام پائے گااور جن لوگوں نے موت سے پہلے صدقہ دیا ہے موت کے بعد وہ ان کے لیے گنبد بنے گا۔

پھر فرمایا کہ صدقہ بہشت کی سیدھی راہ ہے اور جو شخص صدقہ دیتا ہے وہ خدا کی رحمت سے دور نہیں ہوتا۔

پھر فرمایا کہ حاجی خواجہ رحمتہ اللہ علیہ کے جماعت خانہ میں، میں نے ان اشخاص سے جو صبح سے شام تک آتے تھے کوئی بھی ایسا نہیں دیکھا جو کچھ کھا کر نہ جاتا ہواور اگر اس وقت کوئی چیز مہیا نہ ہوتی تو خدام کو آپ فرماتے کہ پانی پلا دو تاکہ دن دینے سے خالی نہ جائے۔

پھر فرمایا کہ اے درویش! زمین سخی آدمی پر فخر کرتی ہے اور رات اور دن جب زمین پر چلتا ہے تو نیکیاں اس کے اعمال نامے میں لکھی جاتی ہیں ۔

پھر فرمایا کہ سخی لوگ ایک ہزار سال سب سے پہلے بہشت کی بو سونگھیں گے اور ہر روز ان کو پیغمبری کا ثواب ملتا رہے گا۔

جو نہی کہ یہ فوائد خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ختم کئے خلقت اور دعا گو واپس چلا آئے۔

 اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلیٰ ذٰلِکَ۔

شراب نوشی وغیرہ

مجلس (6)
شراب نوشی وغیرہ

شراب پینے کے بارے میں گفتگو ہوئی۔آپ نے زبان مبارک سے فرمایاکہ مشارق الانوار میں لکھاہوا ہے کہ امیرالمومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پیغمبر خدا سے روایت کی ہے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے، اے عمر! یہ حلال نہیں ہے محض حرام اور خراب ہے اور یہ شراب مومنوں کی نہیں ۔ پھر فرمایا کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ جس وقت مل جائے اور سخت نہ ہو تو اس کا پی لینا جائز ہے اور اگر مل کر کچھ عرصہ گزرجائے اور سخت ہو جائے تو اس کا پینا جائز نہیں پھر فرما یا کہ نبی کریم ﷺ نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو شراب پیئے یا بیچے یا اس کی قیمت میں سے کچھ کھائے۔پھر خواجہ صاحب آنسو بھر لائے ا ور فرمایا کہ یہ شریعت ہے جو اسے حرام گنتے ہیںورنہ طریقت میں ندی کا پانی پینے سے خدا کی بندگی میں سستی ہو۔بمنزلہ شراب کے ہے۔


نفس کو خواہشات پر سزا

پھر فرمایا کہ ایک دفعہ با یزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ سے لوگوں نے پوچھا کہ اپنے مجاہدے کا حال بیان کریں ۔ آپ نے فرمایا کہ اگر میں اپنے مجاہدے کا حال بیان کروں تو تمہیں اس کے سننے کی طاقت نہیں لیکن ہاں جو میں نے اپنے نفس کے ساتھ معاملہ کیا ہے اگر وہ سننا چاہتے ہو تو میں سناتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ ایک دفعہ رات کے وقت میں نے نفس کو نماز کے لیے طلب کیا تو اس نے موافقت نہ کی اور نماز قضاء ہو گئی ۔ اس کا باعث یہ تھا کہ میں نے مقررہ مقدار سے کچھ زیادہ طعام کھا لیا تھا جب دن چڑھاتو میں نے دل میں ٹھان لی کہ سال بھر میں نفس کو پانی نہیں دوں گا۔

پھر فرمایا کہ ایک دفعہ ابو تراب بخشی رحمتہ اللہ علیہ کو سفید روٹی اور مرغی کے انڈے کھانے کی خواہش پیدا ہوئی کہ اگر آج مل جائے تو ان سے روزہ افطار کروں۔اتفاقاً عصر کی نماز کے وقت خواجہ صاحب تازہ وضو کرنے کے لیے باہر نکلے تو ایک لڑکے نے آکر خواجہ صاحب کا دامن پکڑ لیا اور کہا کی یہ وہ چور ہے جو اس دن میرا اسباب چرا کر لے گیا تھا اور آج پھر آیا ہے تا کہ کسی اور کا مال چرا کر لے جائے۔ یہ غوغا سن کر لوگ اکھٹے ہوئے ۔ لڑکا اور اس کا باپ مکے مارنے لگا۔خواجہ صاحب نے ان کی گنتی کی تو چھ لگ چکے تھے۔ اتنے میں ایک شخص آیااس نے خواجہ صاحب کو پہچان کر کہا کہ اے لوگو! یہ چور نہیں ، یہ تو خواجہ ابو تراب بخشی رحمتہ اللہ علیہ ہیں۔خلقت معافی کی خواستگار ہوئی کہ آپ معاف فرمادیں ہمیں معلوم نہ تھا۔ جب وہ آدمی خواجہ صاحب کو اپنے گھر لے گیا اور شام کی نماز کے بعد بیٹھے تو مرغی کے انڈے اور روٹی جو اتفاقیہ اس کے گھر میں موجود تھے آپ کو پیش کیے۔جب خواجہ صاحب نے دیکھاتو آپ مسکرائے اور فرمایا کہ اٹھالے میں نہیں کھا ئوں گا۔ اس نے عرض کیا کہ کیوں؟ آپ نے فرمایا کہ آج میں نے صرف اس کی خواہش کی تھی تو بغیر کھانے کے میں نے چھ مکے کھائے۔ اگر میں اسے کھالوں تو شاید کیا مصیبت نازل ہو۔ خواجہ صاحب اٹھ کر بغیر کھائے چل دئیے۔

جو نہی کہ خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ان فوائدکو ختم کیا خلقت اور دعا گو واپس چلے گئے۔

 اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلیٰ ذٰلِکَ۔