صفحات

ہفتہ، 13 جولائی، 2013

سلام کرنا سنتِ انبیاء اور گناہوں کا کفارہ ہے

مجلس(۱۲)

سلام کرنا سنتِ انبیاء اور گناہوں کا کفارہ ہے

سلام کہنے کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی تو آپ نے زبان مبارک سے فرمایا کہ رسول اللہ  ﷺ سے حدیث میں آیا ہے کہ جب مجلس سے اٹھے تو سلام کہے کیونکہ سلام کہنا گناہوں کا کفارہ ہے ۔ اور فرشتے اس کیلئے بخشش کے خواستگار ہوتے ہیں جو شخص مجلس سے اٹھتے وقت سلام کہتا ہے تو خداوند تعالیٰ کی رحمت نازل ہوتی ہے اور اس کی نیکیاں اور زندگی زیادہ ہوتی ہے۔

پھر فرما یاکہ میں نے خواجہ یوسف حسن چشتی رحمتہ اللہ علیہ کی زبانی سنا ہے کہ جب کوئی شخص مجلس سے اٹھتا ہے اور سلام کہتا ہے اسے ہزار نیکیاں ملتی ہیں اور اس کی ہزار حاجتیں روا ہوتی ہیں اور گناہوں سے ایسا پاک ہوجاتا ہے گویا کہ ماں کے شکم سے نکلا ہے اور ایک سال کے گناہ بخشتے ہیں اور ایک سال کی عبادت اس کے اعمال نامے میں درج کرتے ہیں اور سو حج اور عمرہ اس کے نام لکھتے ہیں اور رحمت کے سو تھال اس بندے کے سر پر قربان کرتے ہیں۔

پھر فرمایا کہ امیرالمومنین حضرت علی رضی اللہ عنہُ نے فرمایا ہے کہ میں نے چاہا کہ کوئی ایسا موقع ملے کہ رسول اللہ  ﷺ کی مجلس میں تشریف لانے کے وقت یا تشریف لے جانے کے وقت میں سلام کہوں لیکن موقع نہ ملا جب کبھی میں نے سلام کرنا چاہا تو رسول اللہ  ﷺ پہلے ہی سلام کہتے ۔ کہتے ہیں کہ سلام کرنا نبیوں کی سنت ہے۔ تمام پیغمبر علیہم السلام جو گزرے ہیں سب سے پہلے سلام کہا کرتے تھے۔

جو نہی کہ خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ان فوائدکو ختم کیاآپ یاد الٰہی میں مشغول ہوگئے اور خلقت اور دعا گو واپس چلے آئے۔

 اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلیٰ ذٰلِکَ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں