مجلس (16)
مسجد میں داخل ہونے کے آداب
مسجد کے بارے میں گفتگوشروع ہوئی۔آپ نے زبان مبارک سے فرمایا کہ جو شخص دایاں پائوں مسجد میں رکھے اور کہے:تَوَکَّلْتُ عَلَی اللہِ لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ مِنَ اشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم (میں نے خدا پر بھروسہ کیا ۔نہیں قوت باز گشت مگر اللہ کے ساتھ شیطان لعنتی سے)اور اس کے بعد جو نماز پڑھے خداوند تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ ہر رکعت کے بدلے سو رکعت نماز کا ثواب لکھیں اور خداوند تعالیٰ اس کے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور ہر قدم کے بدلے ایک درجہ بہشت میں اسے ملتا ہے اور اس کے نام پر بہشت میں ایک محل تیا ر ہوتا ہے۔
پھر فرمایاکہ جو شخص مسجد میں جاتا ہے اور کہتا ہے مِنَ اشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم تو شیطان کہتا ہے کہ تو نے یہ کلمہ کہہ کر میری کمر توڑ ڈالی ہے۔پس اس کے اعمال نامے میں ایک سال کی عبادت کا ثواب لکھتے ہیں اور جب باہر نکلتے وقت یہ کلمہ پڑھے تو اس کے جسم کے ہربال کے بدلے خداوند تعالیٰ سو نیکی عنایت فرماتا ہے اور بہشت میں سو درجے بڑھتے ہیں۔
پھر فرمایا کہ ا مام زیدو بسی زندہ راستی رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ جب مومن مسجد میں آتا ہے اور دایاں پائوں مسجد میں رکھتا ہے تو اول سے آخر تک اس کے سارے گناہ گر جاتے ہیں، جب باہر آتا ہے اور بایاں پائوں رکھتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں اے خداوندتعالیٰ!اسے نگاہ میں رکھ اور اس کی حاجت کو پورا کراور اس کا مقام ہمیشہ کے لئے بہشت میں بنا۔
پھر فرمایا کہ خواجہ محمد مرعشی رحمتہ اللہ علیہ کہ رسالے میں، میں نے لکھا دیکھا ہے کہ سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ خانۂ خدا میں اس طرح بے ادبوں کی طرح وارد ہوئے کہ جب انہوں نے بایاں پائوں مسجد میں رکھا تو اس بے ادبی کی وجہ سے ان کا نام ثور (بیل) پڑگیا۔
جو نہی کہ خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ان فوائدکو ختم کیاخلقت اور دعا گو واپس چلے آئے۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلیٰ ذٰلِکَ۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں