صفحات

ہفتہ، 13 جولائی، 2013

شہروں کی تبا ہی

مجلس (۳)

شہروں کی تبا ہی

مجلس سوم میں شہروں کی تبا ہی کے بارے میں گفتگو ہوئی۔فرمایا کہ آخری زمانے میں شہر بسبب گناہوں کی شامت کے برباد ہو جائیں گے۔ چنانچہ میں نے خواجہ یوسف چشتی رحمتہ اللہ علیہ کی زبا نی سنا ہے کہ ایک دفعہ میں سمر قند کی طرف جا رہا تھا تو میں نے خواجہ یحییٰ سمر قندی  رحمتہ اللہ علیہ کی زبانی سنا کہ امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت فرمائی کہ جب یہ آیت نازل ہوئی:

وَاِنْ مِّنْ قَرْیَۃِ اِنْ نَحْنُ مُھْلِکُوْھَا قَبْلَ یَوْمَ  ا لْقِیٰمَۃِ اَوْ مُعَذِّبُوْھَاعَذَابًا شَدِیْدًا کَانَ ذَلِکَ فِی الْکِتٰبِ مَسْطُوْرًا
(کوئی شہر ایسا نہیں جس پر قیامت سے پہلے ہم مصیبت اور عذاب اورہلاکت نازل نہ کریں اور وہ شہر ویران نہ ہو)


آثارِ قیامت 

تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایاکہ چونکہ آخری زمانے میں گناہ کثرت سے ہونگے مکے کو حبشی لوگ ویران کریں گے اور مدینہ منورہ قحط سے برباد ہو جائے گا اور بھوک کے مارے خلقت مر جائے گی اور بصرہ ، عراق اور مشہد شرا بخوروں کی شامت اعمال کے سبب خراب ہوں گے اور اس سال مصیبتیں بہت نازل ہو نگی اور عور توں کے بد اعمال سے بھی خراب ہوں گے اور ملک شام بادشاہ کے ظلم سے برباد ہوگا اور مکڑی آسمان سے اترے گی اور روم کثرت لواطت کے سبب خراب ہوگا اور آسمان سے ہوا چلے گی جس سے تمام آدمی سو جائیں گے اور ہلاک ہو جائیں گے اور خراسان اور بلخ تاجروں کی خیانت کے باعث ویران ہو ں گے اور مسلمان اس کی شامت سے مردار ہو جائیں گے۔

اس کے بعد فرمایا کہ میں نے خواجہ مودود چشتی رحمتہ اللہ علیہ کی زبانی سنا ہے کہ خوارزم اور چند شہر جو اس کے گردونواح میں واقع ہیں وہ راگ و رنگ اور منکرات کے با عث خراب ہو ں گے اور ایک دوسرے کو ہلاک کریں گے اور خود بھی ہلاک ہو جائیں گے لیکن سیوستان سخت مصیبتوں ،تاریکیوں اور زلزلوں سے ٹکڑے ٹکڑے ہو جا ئے گا اور جس زمین میں رہتے ہو ں گے نیست و نا بود ہو جا ئے گی لیکن مصر اور دوسرے شہروں کے خرابی کی یہ وجہ ہو گی کہ آخری زمانے میں عورتوں کو قتل کریں گے اور کہیں گے یہ فاطمہ ہے ۔ خاک ان کہ منہ میں ۔ پس حق تعا لیٰ ان کو زمین میں غرق کرے گا اور سندہ اور ہندوستان بھی ویران ہو جائیں گے پھر فرمایا کہ زنا اور شراب خوری کے سبب ویران ہو ں گے پھر فرمایا کہ مشرق یا مغرب میں جو شہر ہے سب کے فسادوں کی بلا ہند میں پڑے گی۔ 

پھر فرمایا کہ جب شہر اس طرح پر خراب ہوں گے تو امام مہدی ظاہر ہوں گے اور مشرق سے مغرب تک ان کے عدل کی دھوم مچ جا ئے گی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نیچے اتریں گے اور ان دونوں کو مسلمانی از حد عزیز ہو گی اور اس وقت دن بہت چھوٹے ہوں گے چنانچہ ایک دن میں ایک نماز ادا ہو گی۔
پھر فرمایا کہ میں نے خواجہ حاجی رحمتہ اللہ علیہ کی زبانی سنا ہے کہ ان کے عہد میں سال مہینوں کی طرح اور مہینے ہفتوں کی طرح اور ہفتے دنوں کی طرح ہوں گے اور دن ایک وقت میں گزر جائیں گے ۔ خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے آبدیدہ ہو کر فرمایا کہ اے درویش! آدمی کو چاہیے کہ انہی سالوں اور مہینوں کو وہ سال اور مہینے خیال کرنا چاہیے ۔ رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد کتیا کے بچے پیدا ہونگے نہ کہ آدمی کے۔اب خود لوگ قیاس کریں کیونکہ زمانہ دراز گزر چکا ہے۔

جو نہی کہ خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ان فوائد کوختم کیا ۔ تو آپ یاد الٰہی میں مشغول ہو گئے اور دعا گو واپس چلا آیا۔ 

اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلیٰ ذٰلِکَ(اس کیلئے خدا کا شکر ہے)۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں