صفحات

جمعرات، 11 جولائی، 2013

آخری زمانے کی علامات

مجلس(۲۲)

آخری زمانے کی علامات

آخری زمانے کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی تو آپ نے زبان مبارک سے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ سے حدیث میں ہے کہ جب آخری زمانہ آئے گا تو عالموں کو چور کی طرح ماریں گے اور عالموں کو منافق کہیں گے اور منافقوں کو عالم۔

پھر فرمایا کہ جو شخص علم سیکھتا ہے خداوندتعالیٰ حکم دیتا ہے کہ اس کا نام اولیاء کے آسمان پر لیا جائے۔


کفر کی دو قسمیں

پھر فرمایا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے روایت فرمائی ہے کہ کفر، ایمان،اسلام،نفاق اور علم میں سے ہر ایک کی دو قسمیں ہیں۔کفر کی دو قسمیں ہیں۔ اول وہ کفر جو خداوند تعالیٰ کی نعمتوں کا کیا جائے۔ مثلاً نماز جماعت کے ساتھ ادا نہ کرنا۔ بیماریوں کا دیکھنا اور مسلمانوں کو فائدہ نہ پہنچانا۔ ان سب باتوں کے سبب ایمان سے خارج نہیں ہوتا۔ دوسرا کفر یہ ہے کہ مسلمانی سے پھر جانااور فریضہ باتوں کا منکر ہونا۔ اس کے سبب انسان ایمان سے خارج ہوتا ہے۔


ایمان کی دو قسمیں

ایمان کی دو قسمیں ہیں:ایک منافقوں کا ایمان ہوتا ہے جو زبان سے اقرار کرتے ہیں اور دل میں شک رکھتے ہیں یہ منافقوں کا کام ہے لیکن دوسرا ایمان خاص جو مومن لوگ زبان اور دل سے تصدیق کرتے ہیں۔ یہ ایمان سوائے نیکوکار آدمی کے کسی کی قسمت میں نہیں ہوتا۔


اسلام کی دو قسمیں

اور اسلام کی دو قسمیں یہ ہیں: ایک یہ کہ جب خداوند تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہو تو شک نہ کرے اور جب اس کے سامنے سجدہ کرے تو دل اور زبان سے ایک جانے پس یہ اسلام پاکیزہ ہے۔دوسرا اسلام یہ ہے کہ زبان سے کہے کہ میں مسلمان ہوں اور دل میں کفر رکھے اور اس بات کا خوف نہ کرے کہ دین کا کیا حال ہوگااور کیسی ندامت اٹھانا پڑے گی اور جو کچھ دل میں ہو وہی زبان سے کہے اور لوگوں کے درمیان لاَاِلٰہَ اِ لاَّللہُ  کی شہادت سے زندگی بسر کرے۔ایسا شخص دوزخ سے بچ جائے گا۔


نفاق کی دو قسمیں

اور نفاق کی دو قسمیں یہ ہیں:اوّل یہ کہ بندہ حلال و حرام اور امر و نہی کا اقرار کرے اور پھر گناہ میں مشغول ہوجائے۔اور برائی کرے اور خداوند تعالیٰ سے ڈرے اور توبہ کی امید رکھے اور یہ امید کرے کہ خدا اسے بدکار جانتا ہے۔

اور دوسرا نفاق یہ ہے کہ زبان سے حلال و حرام اور امر و نہی کا اقرار کرے اور دل میں خیال کرے کہ نماز، روزہ اور زکوٰۃ یہ عمل ہیں ۔اگر کروں گا تو اس کا ثواب مل جائے گا، یہ نفاق ہے۔ اس کا بدلہ دوزخ کی آگ ہے۔


علم کی دو قسمیں

اور علم کی دو قسمیں یہ ہیں ایک خاص خدا کیلئے علم حاصل کرنااور دوسرا علم عام جو شخص علم کا ایک کلمہ سنے اس سے بہتر ہے کہ ایک سال عبادت کرے اور جو شخص ایسی جگہ بیٹھتا ہے جہاں علم کا تذکرہ ہوتا ہے۔ اس کا ثواب غلام آزاد کرنے کے برابر ہوتا ہے اور علم اندھے کیلئے اور بہشت کا رہنمااور اللہ جل شانہ علم کو دنیا اور آخرت میں ضائع نہیں کرتا۔


عمل کی دو قسمیں

اور عمل کی دو قسمیں ہیں: اول جو خدا کیلئے کیا جائے یہ خاص ہے دوسرا جو لوگوں کے دکھلاوے کیلئے کیا جائے۔ اس کا بدلہ نہیں ملتا اور ایسا کرنا اچھا نہیں۔

جو نہی کہ خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ان فوائدکو ختم کیا۔آپ یاد الٰہی میں مشغول ہوگئے اورخلقت اور دعا گو واپس چلے آئے۔

 اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلیٰ ذٰلِکَ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں