صفحات

ہفتہ، 13 جولائی، 2013

فضیلت سورۃ فاتحہ اور اخلاص

مجلس(14)
فضیلت سورۃ فاتحہ اور اخلاص

سورۂ فاتحہ اور سورۂ اخلاص کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی۔آپ نے زبان مبارک سے فرمایا کہ خواجہ یوسف حسن چشتی رحمتہ اللہ علیہ اپنے رسالے میں لکھتے ہیں کہ پیغمبر خدا  ﷺ سے حدیث ہے کہ جو شخص سوتے وقت سورۂ فاتحہ اور سورۂ اخلاص پڑھتاہے وہ قیامت کے دن امینوں سے ہوگااور پیغمبروں کے بعد سب سے پہلے وہ بہشت میں جائے گااور بہشت میں جاتے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزدیک ہوگا۔

پھر فرمایا کہ خواجہ محمد عرشی رحمتہ اللہ علیہ سے نقل ہے جو شخص سوتے وقت ایک دفعہ سورۂ فاتحہ اور تین دفعہ سورۂ اخلاص پڑھتا ہے وہ گناہوں سے ایسا پاک ہوجاتا ہے گویا کہ ماں کے شکم سے پیدا ہوا ہے۔

پھر فرمایا کہ حدیقہ میں لکھا ہے میں نے دیکھا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہُ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جو شخص سوتے وقت قُلْ یاَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ پڑھے ہزار آدمی بہشت میں اس کی گواہی دیں گے۔

پھر فرمایا کے ایک دفعہ میں بدخشاں میں اپنے پیر حاجی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر تھا۔بدخشاں کی ایک مسجد میں ایک بزرگ کو دیکھا کہ ان کو خواجہ محمد بدخشانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے تھے اور جو یاد الٰہی میں از حد مشغول تھے۔ ان سے میں نے سنا کہ جو شخص سورج نکلتے وقت دو رکعت نماز ادا کرے یا چار رکعت تو حج اور عمرے کا ثواب فرشتے اس کے نامہ اعمال میں لکھتے ہیں۔اور حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص سورج نکلتے وقت دو یا چار رکعت نماز ادا کرتا ہے اس سے بہت افضل ہوتا ہے جو کہ دنیا کا تمام مال صدقہ کرے۔

جو نہی کہ خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ان فوائدکو ختم کیا۔آپ یاد الٰہی میں مشغول ہوگئے اور دعا گو واپس چلا آیا۔

 اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلیٰ ذٰلِکَ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں