مجلس(۱۵)
اہل بہشت کے لئے بے مثل نعمتیں
بہشت اوراہل بہشت کے بارے میں گفتگو ہوئی۔آپ نے زبان مبارک سے فرمایا کہ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کی تفسیر میں بہشت کے بیان میںلکھا ہوا دیکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے لوگوں نے عرض کیا کہ ہمیں اہل بہشت کی خوراک کی بابت آپ ﷺ خبر دیں۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھے اسی خدا کی قسم ہے جس نے مجھے پیغمبر بنایاکہ مرد بہشت میں سو مردوں کے ہمراہ کھانا کھائے گااور اپنے اہل و عیال کے ہمراہ مل کر رہے گا۔لوگوں نے عرض کی کہ اے رسول اللہ ﷺاس کھانے سے قضائے حاجت بھی ہوگی یا نہیں؟آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں! ہوگی اور اس سے پسینہ مشک سے بھی زیادہ خوشبودار نکلے گااور اس کے پیٹ میں کچھ بھی نہیں رہے گا۔پھر فرمایا بہشت میں ایسی زندگی ہوگی جسے موت نہ ہوگی اور جوانی ہوگی جو ہرگز بڑھاپے میں تبدیل نہ ہوگی اور ہمیشہ تازہ نعمت میں رہیں گے اور ہر روز ان پر نعمتیں زیادہ ہوں گی۔
اس کے بعد فرمایا کہ جو شخص ان نعمتوں کو حاصل کرنا چاہے تو
جمعہ کے دن صبح کی نمازکے بعد سو دفعہ سورۂ اخلاص پڑھے اور ہمیشہ پڑھے ۔ اس پر نعمتیں زیادہ ہوتی ہیں۔اور رسول اللہ ﷺ سے عرض کی کہ بہشت میں ماں باپ اور فرزند بھی ایک دوسرے سے ملیں گے؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ خداوند تعالیٰ فرماتا ہے:
جَنَّاتُ عَدْنٍ یَّدْ خُلُوْنَھَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰ بَائِھِمْ وَاَزْ وَجِھِمُ وَذُرِّیَّاتِھِمْ وَالْمَلآئِلَۃٍٍ یَّدْ خُلُونَ عَلَیْھِمْ مِنْ کُلِّ بَا بٍ۔
یعنی جب ماں باپ اور فرزند ایک دوسرے کو ملنا چاہیں گے تو بہشتی گھوڑوں ہر سوار ہو کر ان کے گھر جائیں گے۔
جو نہی کہ خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ان فوائدکو ختم کیا۔آپ یاد الٰہی میں مشغول ہوگئے اورخلقت اور دعا گو واپس چلا آیا۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلیٰ ذٰلِکَ۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں