مجلس (۱)
ایمان کی حقیقت
مجلس اول میں ایمان کا ذکر ہوا۔آپ رحمتہ اللہ علیہ نے زبان مبارک سے فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیںکہ پیغمبر خدا ﷺ نے فرمایا کہ ایمان بر ہنہ ہے اور اس کا لباس پر ہیز گاری ہے اور اس کا سرہانہ فقر ہے اور اس کی دوا علم ہے اور اس بات کی شہادت لا الہ الااللہ محمدرسول اللہ پرایمان ہے اور آپ نے کہا اے مسلمانو! ایمان کم و بیش نہیں ہو سکتااور جو شخص انکار کرتا ہے وہ اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے۔
پھر فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کے لیے حکم آیاکہ جا ئو! کا فروں سے جنگ کرو۔ اس وقت تک کہ کہیں لا الہ الااللہ محمدرسول اللہ (نہیں ہے کو ئی معبود مگر اللہ اور محمد ﷺ خدا کے بھیجے ہوئے ہیں) جو نبی و رسول خدا ﷺنے کافروں سے جنگ کی۔ انہوں نے گواہی دی کے خدا ایک ہے۔ پھر نماز کا حکم دیا انہوں نے قبول کیا ۔ پھر روزہ ، حج اور زکوٰ ۃ کا حکم ہوا۔ یہ بھی انہوں نے قبول کئے اور خدائے بزرگ اور بلند پر ایمان لا ئے۔
پھر فرمایا کہ یہ سب باتیں ایمان کا بار بار یاد تازہ کرنا ہے لیکن روزے اور نماز سے گھٹتا بڑھتا نہیں۔ اس واسطے کے جس نے نماز کے صرف فرضوں کو ہی ادا کیا ہواور ان میں کسی قسم کا نقصان نہ کیا ہو۔ خدا تعالیٰ اس کے لیے حساب آسان کر دیتا ہے اور اگر فرضوں میں کسی قسم کا نقصان کیا ہوتوخدا وند تعالیٰ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ دیکھو۔ اس نے کوئی دیدہ و دانستہ نقصان نہیں کیا اور عبادت کی ہے تو فرضوں کے عوض اس کو شمار کرلو۔ اور اگر اس نے فرض بھی پورے ادا نہ کئے ہوں اور نہ ہی کوئی فاضلہ عبادت کی ہوتو وہ دوزخ کے لا ئق ہوتا ہے۔ بشرطیکہ خدا کی رحمت یا رسول اللہ ﷺ کی شفاعت نہ ہولیکن اہل شرع کا قول ہے کہ جو شخص فرض کا منکر ہے، وہ کافر ہے لیکن ایمان کی اصلیت میں کمی بیشی نہیں ہوتی۔
پھر فرمایا کہ جو شخص نماز ادا نہیں کرتا۔ وہ اس حدیث من ترک الصلوٰۃ متعمدًا فقد کفر مستوجب القتل عند الشافعی(جس شخص نے اراداتاًنماز ترک کی۔ پس وہ کافر ہوا یعنی امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کے نزدیک قتل کرنے کے قابل ہے) کے بموجب کافر ہوتا ہے۔
روحوں کی چار قسمیں
پھر فرمایا کہ خواجہ جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کے عمدہ میں،میں نے لکھا ہوا دیکھا ہے کہ خواجہ یوسف چشتی رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ جس وقت اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ( کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں) کی آواز آئی تو اس وقت تمام مسلمانوں اور کافروں کی روحیںایک جگہ تھیں۔ آواز کے آتے ہی ان کی چار قسمیں ہو گئیں۔
پہلی قسم کی روحوں نے جب آواز سنی اسی وقت سجدہ میں گر پڑھیںاوردل اور زبان سے کہا قَالُوابَلیٰ(انہوں نے کہا ۔ ہاں)
دوسری قسم کی روحوں نے بھی سجدہ کیا اور زبان سے کہا قَالُوابَلیٰلیکن دل سے نہ کہا۔
تیسری قسم کی روحوں نے دل سے کہا۔اور چوتھی قسم کی روحوں نے نہ دل سے کہا اور نہ ہی زبان سے کہا۔
پھر خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی تفصیل یوں فرما ئی کہ جنہوں نے سجدہ کیا اور دل اور زبان سے اقرار کیا وہ اولیاء نبی اور مومن تھے۔ اور جنہوں نے زبان سے کہا اور دل سے نہ کہا وہ ان مسلمانوں کا گروہ تھا جو پہلے مسلمان ہوتے ہیں اور مرتے دفعہ بے ایمان ہو کر دنیا سے جاتے ہیں اور تیسری قسم جنہوں نے زبان سے نہ کہا لیکن دل سے کہا وہ ایسے کافر تھے جو پہلے کافر ہوتے ہیں بعد میں مسلمان ہو جاتے ہیں لیکن چوتھی قسم جنہوں نے نہ دل سے کہا اور نہ زبان سے، وہ کافر تھے جو پہلے ہی کافر ہوتے ہیں اور بعد میں بھی کافر ہی دنیا سے گزر جاتے ہیں۔
جب ان فوائد کو خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ختم کیا ۔ تو آپ یاد الٰہی میں مشغول ہو گئے اور دعا گو واپس چلا آیا۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلیٰ ذٰلِکَ۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں