مجلس (۴)
عورتوں کی فرمانبرداری
مجلس چہارم: عورتوں کی فرمانبرداری کے بارے میں گفتگو ہو رہی تھی۔آپ نے فرمایا امیرالمومنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایاکہ میں نے سرورکائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی زبان مبارک سے سنا کہ جو عورت اپنے خاوند کی فرمانبرداری کرتی ہے وہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعا لیٰ عنہا کے ہمراہ بہشت میں داخل ہو گی ۔ اس کے بعد فرمایا کہ جس عورت کا خاوند بستر پر طلب کرے اور وہ نہ آئے تو اس کی تمام کی ہوئی نیکیاں دور ہوجاتی ہیں اور وہ ایسی صاف رہ جاتی ہے جیسے سانپ کینچلی اتار کر اور اس کے شوہر کی طرف سے اس کے ذمے اس قدر بدیاں ہو جاتی ہیںجتنی کہ جنگل کی ریت اور اگر وہ عورت مرجائے اور اس کا شوہر راضی نہ ہو تو اس کے لیے دوذخ کے ساتوں دروازے کھل جاتے ہیں اور اگر عورت سے خاوند راضی ہو اور وہ عورت وفات پا جائے تو اس کے لیے بہشت کے ۷۰ درجے قائم ہو تے ہیں۔
پھر فرمایا کہ میں نے تنبیہ میں لکھا دیکھا ہے کہ جو عورت خاوند سے تر شروئی سے پیش آئے اور اس کی طرف نہ دیکھے تو اس کے اعمال نامے میں آسمان کے ستاروں کے برابر گناہ لکھے جاتے ہیں پھر فرمایا کہ اگر خاوند کی ناک کے ایک نتھنے سے خون جاری ہو اور دوسرے سے ریحہ (پیپ) اور عورت اسے زبان سے صاف کرے تو بھی خاوند کا حق ادا نہیں ہوتا۔ پس اے درویش! اگر خدا کے سوا کسی کو سجدہ کرنا جا ئز ہوتا تو نبی کریم ﷺ حکم فرماتے ہیں کہ عورتیں اپنے خاوندوں کو سجدہ کریں۔
غلام آزاد کرنے کی جزا
پھر غلام آزاد کرنے کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی۔ اسی اثنا میں ایک درویش آیا اور آداب بجا لا کر جو بردہ (غلام) اس کے ہمراہ تھا خواجہ صاحب کے رو برو آزاد کردیا۔ خواجہ صاحب نے دعائے خیر کی پھر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کے جو شخص بردہ آزاد کرتا ہے اس کے بدن کی ہر رگ کے بدلے اس شخص کو پیغمبری کا ثواب ملتا ہے اور دنیا سے باہر جانے سے پیشتر ہی اس کے چھوٹے بڑے گناہوں کو خدا وند تعالیٰ بخش دیتا ہے اور اس کے بدن پر جتنے بال ہیں ہر بال کے بدلے ایک شہر بہشت میں اس کے نام بناتے ہیں اور اس کی ہر رگ کے بدلے اسے نور دیتے ہیں اور اس پر پل صراط آسان کرتے ہیں اور آسمان پر اس کا نام اولیاء میں شمار کرتے ہیں۔
جناب صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا غلام آزاد کرنا
پھر فرمایا کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے اور اصحاب بھی آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے۔امیر المومنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اٹھے اور عرض کی اے رسول اللہ ﷺ میرے پاس چالیس بردے ہیں ۔ میں نے بیس بردے خدا تعالیٰ کی رضا مندی کے لیے آزاد کئے۔ نبی کریم ﷺ نے دعائے خیر کی اتنے میں جبرائیل امین علیہ السلام نازل ہوئے اور کہا اے رسول اللہ ﷺ حکم الہٰی یوں ہے کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے جسم پر جتنے بال ہیں آپ کی امت میں سے اسی قدر آدمیوں کو ہم نے دوزخ سے نجات دی اور اسی قدر ثواب حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حاصل کیا۔
جناب عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا غلام آزاد کرنا
اس کے بعد فرمایا کہ امیر المومنین عمر اٹھ کر آداب بجا لائے اور عرض کی کہ اے رسول اللہ ﷺ میرے پاس تیس بردے ہیں ۔ ان میں سے پندرہ میں نے خدااور خدا کی رضا کے لیے آزاد کئے۔ نبی کریم ﷺ نے دعائے خیر کی اتنے میں جبرائیل امین علیہ السلام پھر اترے اور کہا اے رسول اللہ ﷺ فرمان الہٰی اس طرح پر ہے کہ جس قدر رگیں ان بردوں کے جسم میں ہیں ان سے پچا س گنا آدمی آپ ﷺکی امت کے میں نے دوزخ کی آگ سے آزاد کئے اور اسی قدر ثواب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو عنایت ہوا۔
جناب عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا غلام آزاد کرنا
یہ اس کے بعد فرمایا کہ امیر المومنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اٹھ کر آداب بجا لائے اور عرض کی کہ میرے پاس بردے بہت ہیں ۔ ان میں سے سو بردے خدا کی رضا کے لیے آزاد کئے۔ نبی کریم ﷺ نے دعائے خیر کی اتنے میں جبرائیل امین علیہ السلام نے حکم الہٰی اس طرح بیان کیا کہ اے رسول اللہ ﷺ جتنی رگیں ان بردوں کے بدنوں میں ہیں ان سے سو گناآدمی آپ ﷺکی امت کے بخشے گئے اور ثواب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو عنایت ہوا۔
جناب علی مرتضٰی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نذرانۂ جاں
اس کے بعد فرمایا کہ ا میرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم اٹھے اور آداب بجا لا کر عرض کی کہ اے رسول اللہ ﷺ میرے پاس دنیا کی کوئی چیز نہیں میرے پاس جان ہے سو خدا پر میں نے قربان کی۔ یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ جبرائیل امین علیہ السلام حاضرہوئے اور کہا اے رسول اللہ ﷺ فرمان الہٰی یہ ہے کہ ہمارے علی رضی اللہ عنہ کے پاس دنیا کی کوئی چیز نہیں ، ہم نے دنیا میں اٹھارہ ہزار عالم پیدا کئے ہیں۔تیری اور علی رضی اللہ عنہ کی رضا پر ہم نے ہر عالم میں سے دس ہزار کو دوزخ کی آگ سے نجات بخشی۔
پھر فرمایا کہ خواجہ یوسف چشتی رحمتہ اللہ علیہ کا طریق تھا کہ جو بزرگ خواجہ صاحب کی خدمت کے لئے آتا ایک بردہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا اور خواجہ صاحب اس کو قبول کر کے فرماتے کہ تو اس کو آزاد کر شاید کہ قیامت کے دن میں اور تو اسی کی بدولت دوزخ کی آگ سے بچ جائیں۔
اہل عشق کا مقام
پھر فرمایا کہ جس روز خواجہ ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ نے توبہ کی تو جس قدر آپ کے پاس بردے تھے اپنے سامنے سب کو آزاد کیا۔اور حج کے لیے روانہ ہوئے اور پیادہ ہر قدم پر دو گانہ ادا کرتے ہوئے چودہ سال کے عرصے میں خانہ کعبہ پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ کعبہ اپنی جگہ پر نہیں ۔ آپ کو حیرت ہوئی آواز آئی کہ اے ابراہیم صبر کر ، کعبہ ایک بڑھیا کی زیارت کے لیے گیا ہوا ہے ۔ ابھی آجا ئے گا جو نہی کہ خواجہ صاحب نے یہ بات سنی آپ پہلے کی نسبت زیادہ متحیر ہوئے اور کہا کہ وہ بڑھیا کون ہے ؟ چنانچہ ان کو دیکھنے کے لیے روانہ ہوئے کہ جا کر دیکھوں تو سہی جو نہی کہ جنگل میں پہنچے رابعہ بصری کو دیکھا کہ بیٹھی ہو ئی ہیں اور کعبہ اس کے گرد طواف کر رہا ہے ابراہیم رحمتہ اللہ علیہ کے دل میں غیرت آئی۔ چنانچہ انہوں نے رابعہ بصری رحمتہ اللہ علیہ کو زور سے آواز دی کہ تو نے یہ شور برپا کر رکھا ہے انہوں نے کہا کہ میں نے یہ شور برپا نہیں کیا بلکہ تو نے کیا ہے کہ چودہ سال کے بعد تو خانہ کعبہ پہنچا اور دیدار نصیب نہیں ہوا کیونکہ تیری خواہش خانہ کعبہ کی زیارت سے تھی ۔
اور میری غرض خانہ کعبہ کے مالک کی تھی ۔ پھر فرمایا کہ اے درویش! وہ مردہ ہے کے خدا وند تعا لیٰ کے سوا کسی چیز کو مد نظر رکھے اور دنیا اور آخرت میں مبتلا نہ ہو اور جو کچھ اس کے پاس ہے اس کی طرف نگاہ نہ کرے ۔ جب انسان اس مرتبے پر پہنچ جاتا ہے تو جو کچھ اس کے دوست کی ملکیت ہوتا ہے وہ اسی کی ہو جاتی ہے ۔ کعبہ اس کے گرد طواف کرتا ہے اور اس کا دامن نہیں چھوڑتاپس اے درویش ! اسی مقام پر غور کر کہ جب سید عالم ﷺ خدا وند تعا لیٰ کے بن گئے تو خدا وند تعا لیٰ سید عالم ﷺ کا بن گیا اور درمیان میں کو ئی چیز حائل نہ رہی تو آواز آئی کہ کہو لا الہ الااللہ محمدرسول اللہ جو نہی کہ یہ معاملہ جو کچھ آسمان سے لیکر زمین تک اور دنیا اور آخرت میں ہے سب نے دیکھا تو فرشتے انسان اورجن وغیرہ سب نے اپنے آپ کو طفیلی خیال کر کے نبی کریم ﷺ کا دامن پکڑااور عرض کی کہ اے رسول اللہ ﷺ قیامت کے دن ہمیں نہ چھوڑ دینا اور اپنی شفاعت سے محروم نہ رکھنا۔
آتشِ عشق کے سوختہ جاں
پھر فرمایا اے درویش! تجھے یاد رہے کہ کب آدمی دوست کا بن جاتا ہے تو سب چیزیں اس کی بن جاتی ہیں لیکن مرد کو چاہئے کہ تمام موجادات سے فارغ ہو کر دوست کی طرف مشغول رہے تاکہ جا کچھ دوست کا ہے اس کی پیروی کرے۔
پھر فرمایا اے درویش! ایک دفعہ میں سیوستان کی طرف سفر میں تھا توسیوستان میں ایک غار کے اندر ایک درویش کو دیکھا جسے شیخ سیوستانی کہا کرتے تھے لیکن وہ بو ڑھا اس قدر بزرگی اور ہیبت رکھتا تھا کہ میں نے آج تک کسی کو ایسا نہیں دیکھا ۔ وہ عالم تحیر میں مشغول تھا جب میں اس کے پاس گیا تو میں نے سر جھکا لیا ۔ اس بزرگ نے فرمایا سر اٹھا ۔ میں نے سر اٹھا یا تو فرمایا اے درویش! آج قریباً سال کا عرصہ گزرا ہے کہ سوائے خدا کے کسی اور شے میں مشغول نہیں ہوا لیکن تیرے ساتھ جو میں مشغول ہوتا ہوں تو یہ حکم الٰہی ہے سن ! اگر تو محبت کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کے سوا کسی اور چیز میں مشغول نہ ہونا اور کسی سے میل جول نہ کرنا تاکہ تو جلایا نہ جا ئے کیونکہ غیرت کی آگ عاشقوں کے ارد گرد رہتی ہے جب عاشق نے معشوق کے سوا کسی چیز کا خیال کیا اسی دم غیرت کی آگ نے اسے جلایا۔ لیکن تجھے یاد رہے کہ محبت کی راہ میں جو درخت ہیں اس کی دو شاخیں ہیں ۔ ایک کو نرگس وصال کہتے ہیں اور دوسرے کو نرگس فراق۔ پس جو شخص سب سے فارغ ہو کر دوست میں مشغول ہو وہ دوست کے وصال کی دولت سے مشرف ہوتا ہے اور جو اس کے سوا کسی اور چیز کی رغبت رکھتا ہے وہ فراق میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ جونہی کہ اس بزرگ نے اس بات کو ختم کیا ۔فرمایا تو جا! تو نے ہمیں کام سے رکھا ۔ اتنا کہہ کر وہ یاد الٰہی میں مشغول ہوگئیاور دعا گو واپس چلا آیا
پھر فرمایا اے درویش! ہم بردہ آزاد کرنے کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جا شخص بردہ آزاد کرتا ہے وہ دنیا سے باہر جانے سے پیشتر ہی اپنا مقام بہشت میں دیکھ لیتا ہے اور جان کنی کے وقت فرشتہ اسے بہشت کی خوشخبری دیتا ہے پھر فرمایا کہ میں نے خواجہ محمد چشتی رحمتہ اللہ علیہ کی زبانی سنا ہے کہ جا شخص غلام آزاد کرتا ہے وہ دنیا رحلت کرنے سے پیشتر ہی بہشت کی شراب پیتا ہے اور جان کنی کا عذاب اس پر سہل ہوجاتا ہے اور قیامت کے دن عرش کے سایہ تلے ہوگا اور بغیر حساب کے بہشت میں داخل ہوگا۔
جو نہی کہ خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ان فوائد کوختم کیا ۔ تو آپ یاد الٰہی میں مشغول ہو گئے اور دعا گو واپس چلا آیا۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلیٰ ذٰلِکَ(اس کیلئے خدا کا شکر ہے)۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں