مجلس (۲۱)
مومن کی حاجت روائی
حاجت روائی کے بارے میں گفتگو ہوئی۔تو آپ نے اپنی زبان مبارک سے فرمایاکہ اس مومن سے خدا وند تعالیٰ خوش ہوتا ہے جو مومن کی ضرورت کو پورا کرے اور بہشت میں اس کا مقام ہوتا ہے اور فرمایا کہ جو شخص مومن کی عزت کرتا ہے۔ اس کی جگہ بہشت میں ہوتی ہے اور خداوند تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ اگر بندہ کسی کی جوتی سیدھی کرے یا مومن کے پائوں سے کانٹا نکالے تو خداوندتعالیٰ اسے صدیقوں اور شہیدوں میں شمار کرتا ہے۔
پھر فرمایا کہ مشائخ طبقات اولیاء نے فرمایا ہے کہ اگر فرضاً کوئی شخص درودوں یا بندگی میں مشغول ہو اور کوئی حاجت مند آئے اور اس سے ملنا چاہے تو اسے لازم ہے کہ سب کام چھوڑ کر اس کے کام میں مشغول ہوجائے اور جس قدر مقدور ہو۔ اس میں کوشش کرے اور رسول اللہ ﷺ سے حدیث میں ہے کہ جو شخص اپنے بھائی مومن کی حاجت کو پورا کرتا ہے خداوند تعالیٰ اس کی دنیا اور آخرت کی حاجتوں کو پورا کرتا ہے اور قیامت کے دن بہشت میں جائے گا اور حضرت آدم علیہ السلام کا ہمسایہ ہوگا۔
جو نہی کہ خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ان فوائدکو ختم کیا۔آپ یاد الٰہی میں مشغول ہوگئے اورخلقت اور دعا گو واپس چلے آئے۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلیٰ ذٰلِکَ۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں