مجلس(۱۹)
اذان اور مئوذن کی فضیلت
نماز کی اذان کہنے کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی تو آپ نے زبان مبارک سے فرمایاکہ امیرالمومنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ! جو شخص نماز کی بانگ کہتا ہے اس کا ثواب خدائے تعالیٰ بزرگ اور بلند ہی جانتا ہے لیکن نماز کی اذان میری امت کے لیے حجت ہے اس کی تفسیر یہ ہے کہ جب مومن اَللہُ اکْبَرُاَللہُ اکْبَرُکہتا ہے تو وہ ایسا کہتا ہے کہ خدا کو میں نے تیرا گواہ بنایا۔اے محمد ﷺ کی امت نماز میں حاضر ہو اور دنیاوی کاروبار چھوڑدو۔اور جب اَشْھَدُاَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّاللہُ کہتا ہے۔کہ اے محمد ﷺ کی امت! میں نے اسے اور اس کے فرشتوں کو گواہ بنایا ہے کہ میں نے نماز کے وقت کی تمہیں خبر کی ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی خبر نہیں اور جب اَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدرَّسُوْلُ اللہِ کہتا ہے تو کہتا ہے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوںکہ محمد ﷺ خدا کے بھیجے ہوئے ہیں اور جب حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃ کہتا ہے۔تو کہتا ہے کہ اے محمد ﷺ کی امت! میں نے دین تم پر ظاہر کیا اور خدا اور خدا کے رسول ﷺ کا حکم مانو!تاکہ خدا تعالیٰ تمہارے سب گناہ بخش دے کیونکہ نماز دین کا ستون ہے اور جب حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ کہتا ہے تو کہتا ہے کہ اے امت محمد ﷺ کی! تیرے لئے رحمت کے دروازے کھول دئیے گئے ہیں۔ اٹھو اور اپنا حصہ لو کیونکہ تمہارے لئے دنیا اور آخرت میں بہشت ہے اور جب اَللہُ اکْبَرُاَللہُ اکْبَرُکہتا ہے۔ تو یہ کہتا ہے کہ خدا کی رحمت اور خدا کو میں نے تیرا گواہ بنایا ہے۔ اے امحمد ﷺ کی امت! نماز میں حاضر ہو اور دنیاوی کاموں سے فارغ ہوجائو۔میں نے تم پر ظاہر کردیااور خدا اور خدا کے رسول ﷺ کا حکم مانواور نماز ادا کرو تاکہ خداوند تعالیٰ تمہارے سب گناہ بخش دے اور تمہیں یاد رہے کہ کوئی عمل نماز سے بڑھ کر نہیں جو شخص نماز ادا نہیں کرتا وہ پشیمان ہوتا ہے اور جب لاَاِلٰہَ اِ لاَّللہُ کہتا ہے تو کہتا ہے کہ تمہیں معلوم رہے کہ ساتوں آسمان اور زمینوں کی امانت تمہاری گردن پر ہے جو شخص قبول کر لیتا ہے اور ہاتھ پائوں مارتا ہے وہ خلاصی پاتا ہے۔
اجابت اذان کا انعام
پھر فرمایا کہ بغداد میں، میں نے ایک بزرگ سے پوچھا۔ اس نے کہا کہ اذان کا جواب دینا گناہوں کا کفارہ ہے اور جو مسجد میں خدا اور خدا کے رسول ﷺ کی اطاعت کرتا ہے وہ صدیقوں اور شہیدوں کے ہمراہ بہشت میں جاتا ہے اور حضرت دائود علیہ السلام کا رفیق ہوتا ہے۔
پھر فرمایا کہ خواجہ جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کے عمد ہ میں لکھا ہے کہ مٔوذن کی اجابت کرناقیامت کے دن خلقت کی شفاعت ہے۔ پس جو شخص اذان سنے اور امام کے پیچھے جماعت کے ساتھ نماز ادا کرے تو ہر رکعت کے بدلے تین سو رکعت کا ثواب ملتا ہے اور ہر رکعت کے بدلے بہشت میں اس کیلئے شہر بناتے ہیں۔
پھر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ پانچ قسم کے لوگوں پر راضی نہیں۔
اوّل: وہ لوگ جو جمعہ کی نماز قضا کرتے ہیں۔
دوم: جو آزاد کئے ہوئے غلاموں کو بیچتے ہیں۔
سوم: وہ جو ہمسائے کو ستاتے ہیں۔
چہارم: جو کسی سے ناحق کوئی چیز چھین لیتے ہیں۔
پنجم: وہ جو اپنے عیال پر ظلم کرتے ہیں۔
پھر فرمایاجو شخص مٔوذن کی اجابت کرتا ہے فرشتے اس کیلئے معافی کے خواستگار ہوتے ہیںاور سلام بھیجتے ہیں اور وہ نجات پاتا ہے اور بغیر حساب کے بہشت میں جاتا ہے۔
پھر فرمایا: اے درویش!اس طرح تکبیر کہنا جیسی کہ میں نے کہی ہے کہ خدا تمہارے دونوں ابروئوں کے درمیان ہے اور مقام تمہارے سینے کے سامنے ہے پس تمہیں یاد رہے کہ خداوند تعالیٰ تمہیں دیکھ رہا ہے اور دونوں پائوں پل صراط پر ہیں اور بہشت دائیں طرف ہے اور دوزخ بائیں طرف۔چاہئے کہ تو اللہ اکبر کہے اور فکر سے قرآن شریف پڑھے۔اور عاجزی کے ساتھ رکوع کرے اور مسکینی کے ساتھ سجدہ کرے پھر بیٹھ کر التحیات پڑھے۔ تو فرشتے تیرے لئے معافی کے خواستگار ہوں گے اس وقت تک کہ تو سلام کہے۔
حلال رزق کے فوائد
پھر فرمایا کہ کھانا حلال کھائو اور حلال کی کمائی کا کپڑا پہنواور توبہ کرو اور حرام کی کمائی کا کپڑانہ پہنو۔جب ایسا کروگے تو بہشت کے ساتوں دروازوں میں سے ایک دروازہ تمہارے لئے کھول دیا جائے گااور تمہاری نماز کو قبول کیا جائے گا۔
تلاوتِ قرآن کے فوائد
پھر فرمایا کہ قرآن شریف کو بار بار پڑھنا چاہئے۔یہ بھی گناہوں کا کفارہ ہے اور دوزخ کی آگ کیلئے بمنزلہ پردہ کے ہے اور جو شخص قرآن پڑھنے میں مشغول ہوتا ہے خداوند تعالیٰ بہشت کے دروازے اس کیلئے کھول دیتا ہے اور ہر خوف کے بدلے جو وہ پڑھتا ہے ۔ خداوند تعالیٰ ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جو قیامت تک تسبیح پڑھتا ہے اور کوئی شخص خدا کا اس قدر نزدیکی نہیں جس قدر کہ وہ شخص ہے جو علم سیکھے اور قرآن کے پڑھنے کو بار بار کرے۔
پھر فرمایا کہ تم پر لازم ہے کہ قرآن شریف پڑھو اور سیکھو۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص قرآن شریف کی ایک آیت پڑھتا ہے وہ نیکی سے بدرجہا بہتر ہے اور جس وقت فوت ہوجاتا ہے اور قرآن پڑھنے کی دوستی اس کے دل میں ہوتی ہے تو فرشتے کے کان میں نیکی کی صورت میں آتا ہے اور فرشتہ بہشت سے ایک نارنگی لاتا ہے اور کہتا ہے کہ پڑھو! وہ شخص کہتا ہے کہ میں نے دنیا میں نہیں پڑھاپس وہ کہتا ہے کہ پڑھ!یہ نارنگی خداوند تعالیٰ نے تیرے لئے ہدیہ کے طور پر بھیجی ہے پھر وہ بندہ شروع سے لے کر آخر تک قرآن پڑھتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے کہ تجھے قبر اور قیامت کا عذاب نہ ہوگااور تو پیغمبروں کا ہمسایہ ہوگا۔
جو نہی کہ خواجہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ان فوائدکو ختم کیا۔آپ یاد الٰہی میں مشغول ہوگئے اورخلقت اور دعا گو واپس چلے آئے۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ عَلیٰ ذٰلِکَ۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں